خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد 11 125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء بیٹھے تھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔“ موعود اوئی اور پھر آگے مصلح موعود لکھتے ہیں کہ پھر مدینہ کے لوگ لڑائی کے کام میں نہایت ادنی اور ذلیل سمجھے جاتے تھے۔جیسے ہمارے ملک میں بعض قو میں لڑائی کے فن کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔مدینہ کے لوگ بیشک مالدار تھے اور وہ اچھے زمیندار تھے مگر جیسے ہمارے ملک میں بعض قو میں بعض پیشوں کی وجہ سے ذلیل سمجھی جاتی ہیں اسی طرح وہ ذلیل سمجھے جاتے تھے کیونکہ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور کھیتی باڑی کو عرب لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔عرب لوگ اس بات پر ناز کرتے تھے کہ اُن کے پاس اتنے گھوڑے ہیں، اتنے اونٹ ہیں، وہ اس طرح ڈاکے مارتے ہیں اور اس اس طرح لوگوں پر حملے کرتے ہیں۔مگر مدینہ کے لوگ ایک گاؤں میں بستے اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔وہ نہ ڈا کہ مارتے تھے، نہ اونٹ اور گھوڑے کثرت سے رکھ سکتے تھے ، کیونکہ اگر وہ اونٹ اور گھوڑے رکھتے تو انہیں کھلاتے کہاں سے۔اس لئے وہ دوسرے عربوں کی نگاہ میں نسبتا ادنی سمجھے جاتے تھے۔عرب کے لوگ تو اُن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ وہ تو سبزی ترکاری بونے والے ہیں۔اس میں کیا شبہ ہے کہ جو لوگ ترفہ میں پڑ جائیں ( یعنی آسودگی وغیرہ میں پڑ جائیں) باغات بنالیں کھیتی باڑی میں مشغول ہو جائیں اور مال و دولت جمع کرنے میں لگ جائیں۔اُنہوں نے کیا لڑنا ہے اور وہ تو کئی پشتوں سے نسلاً بعد نسل یہی کام کرتے چلے آ رہے تھے اس لئے وہ لڑائی کے قابل نہیں سمجھے جاتے تھے۔پھر فرماتے ہیں کہ عرب کی نگاہ میں مدینہ کے لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے اور حقارت سے وہ اُن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ تو کھیتی باڑی کرنے والے لوگ ہیں مگر انہی لوگوں کو دیکھو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے بعد ان میں کتنا عظیم الشان فرق پیدا ہو گیا کہ وہی سبزی ترکاری بونے اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگ دنیا کے بہترین سپاہی بن گئے۔بدر کے موقع پر مکہ کے بڑے بڑے سردار جمع تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ آج مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔اُس دن ایک ہزار تجربہ کار سپاہی جو بیسیوں لڑائیاں دیکھ چکا تھا اور جن کا دن رات کا شغل لڑائیوں میں شامل ہونا اور دشمنوں پر تلوار چلانا تھا، مسلمانوں کے مقابلے میں صف آراء تھا اور مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے۔بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ ان تین سو تیرہ مسلمانوں میں سے بعض کے پاس تلواریں تک نہ تھیں اور وہ لاٹھیاں لے کر آئے ہوئے تھے۔ایسی بے سروسامانی کی حالت میں جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے چلے تو دو انصاری لڑکے بھی بند ہو گئے کہ ہم نے بھی ساتھ چلنا ہے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم