خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 127
127 خطبات مسرور جلد 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء پتہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے دلوں میں ایمان نے ایک ہی جذبہ پیدا کر رکھا تھا۔عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ ان دونوں کے سوال سے میرے دل پر حیرت طاری ہوگئی اور مجھے اُن کے ایمان کو دیکھ کر بہت ہی تعجب ہوا۔چنانچہ میں نے انگلی اٹھا کر یہ بتانے کے لئے کہ تمہارا خیال کیسا ناممکن ہے، کہا کہ وہ قلب لشکر میں ( یعنی بالکل درمیان میں ) جو شخص گھوڑے پر سوار ہے اور سر سے پیر تک مسلح ہے اور جس کے آگے دو جرنیل سنگی تلوار میں لے کر پہرہ دے رہے ہیں، وہ ابو جہل ہے۔اس وقت ابو جہل کے سامنے ایک تو عکرمہ بنگی تلوار لے کر پہرہ دے رہا تھا اور ایک اور مشہور جرنیل تھا۔“ کہتے ہیں اور عکرمہ بھی کوئی معمولی انسان نہیں تھا بلکہ اُس وقت دنیا کے بہترین سپاہیوں میں سے تھا اور وہ دونوں اُس وقت سنگی تلواریں لے کر ابو جہل کے سامنے کھڑے تھے۔غرض عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے انگلی اُٹھا کر انہیں بتایا کہ ابو جہل کونسا ہے۔میری غرض یہ تھی کہ انہیں معلوم ہو جائے ، ان کا خیال کیسا ناممکن ہے۔مگر وہ کہتے ہیں کہ ابھی میری انگلی نیچے نہیں آئی تھی ، جس طرح باز چڑیا پرحملہ کرتا ہے، اسی طرح انہوں نے یکدم حملہ کردیا اور پیشتر اس کے کہ کفار کے لشکر کو ہوش آئے کہ یہ ہو کیا گیا ہے، انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے نیچے گرا دیا۔ان میں سے ایک کا ہاتھ کٹ گیا تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کو الگ پھینک کر پھر آگے بڑھا اور دونوں نے ابوجہل کو زخمی کر کے نیچے گرا دیا اور اس طرح۔۔۔بدر کی جنگ بے جرنیل کے لڑی گئی۔“ 66 فرمایا کہ دیکھو وہ قوم جو اتنی ذلیل سمجھی جاتی تھی کہ اس کے افراد کو لڑائی کے قابل ہی خیال نہیں کیا جاتا تھا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے طفیل اُن میں کتنا تغیر پیدا ہوا کہ ابو جہل مرتا ہے تو اس حسرت کے ساتھ کہ مجھے مدینہ کے دولڑکوں نے مارا۔وہ کہتا ہے مرنے کی پرواہ نہیں ، سپاہی لڑائی میں مراہی کرتے ہیں۔مجھے حسرت اور افسوس ہے تو یہ کہ مدینہ کے دولڑکوں نے مجھے مارا۔گویا وہ لوگ جنہیں عرب سپاہی تک نہیں سمجھتے تھے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو خدا جس کے قبضہ میں دل ہیں اور جو کمزور کو قوی بنانے کی طاقت رکھتا ہے، اُس نے اُن کو ایسا بہادر اور جری بنا دیا کہ ایک تجربہ کار جرنیل جس بات کو ناممکن سمجھتا تھا ، خدا نے وہ کام اُس قوم کے دو بچوں کے ہاتھ سے کروا دیا۔پھر عرب لوگوں کے اندر اس قدر غیرت ہوا کرتی تھی کہ وہ غیرت میں اپنی ہر چیز کوقربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، مگر دیکھو پھر کس طرح خدا نے اُن کے دل بدل ڈالے اور ان کے دلوں سے جھوٹی غیرت کا احساس تک جاتا رہا۔اور پھر آپ نے اس شخص کا واقعہ بیان فرما یا جو ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اُس کے باپ کے پاس گیا۔اُس نے کہا کہ مجھے لڑ کی دکھا دو۔اُس نے کہا نہیں۔لڑکی میں