خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 124
خطبات مسرور جلد 11 124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء جونہی اُس نے اپنی ماں کی آواز کو سنا، اُس نے اپنی ماں سے جا کر یہ نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا ہتک ہوئی ہے۔وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا۔خیمہ میں بادشاہ کی تلوار لٹک رہی تھی۔اُس نے اُچک کر تلوار کومیان سے نکالا اور بادشاہ کو قتل کر دیا اور باہر نکل کر اُس نے اپنے قبیلے والوں سے کہا کہ بادشاہ کا سب مال و متاع لوٹ لو۔“ وو تو عرب لوگ کسی کی اطاعت برداشت نہیں کر سکتے تھے لیکن پھر انہی عربوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل بدل ڈالے۔اُنہی عربوں میں سے ایک سمجھدار اور پڑھے لکھے اور اپنی قوم کے معزز فر دحضرت عبداللہ بن مسعود گلی میں سے گزر رہے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں وعظ فرمارہے تھے۔وہ اسی وعظ کو سننے کے لئے مسجد کی طرف جا رہے تھے۔وہاں مسجد میں کسی وجہ سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فرمایا کہ لوگ بیٹھ جائیں تو آپ کیونکہ رستہ میں تھے، جارہے تھے، آپ نے آواز سنی ، آپ بھی بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر انہوں نے مسجد کی طرف جانا شروع کر دیا۔کوئی دوست جو پاس سے گزرا اُس نے کہا کہ عبد اللہ بن مسعود! یہ تم نے کیا مضحکہ خیز حرکت شروع کر دی ہے کہ زمین پر بیٹھے بیٹھے چل رہے ہو۔سیدھی طرح کیوں نہیں چلتے۔انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے کیا پتہ کہ میں وہاں تک زندہ پہنچوں یا نہ پہنچوں۔ایسا نہ ہو میرا خاتمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں ہو۔اس لئے میں یہیں بیٹھ گیا اور میں نے بیٹھے بیٹھے مسجد کی طرف جانا شروع کر دیا۔اب ذرا مقابلہ کرو، اس واقعہ کا عمرو بن کلثوم کے واقعہ سے کہ ایک بادشاہ کی دعوت پر وہ جاتا ہے اور اُس کی ماں کو بادشاہ کی ماں کوئی بڑا کام نہیں بتاتی بلکہ وہ کام بتاتی ہے جو وہ خود کر رہی ہوتی ہے اور اپنے بیٹے سے کم درجہ رکھنے والے شخص کے لئے کر رہی ہے۔پھر وہ کام کوئی بہت بڑا کام بھی نہیں بلکہ جو کچھ کر رہی تھی اُس میں سے بھی ایک نہایت معمولی اور چھوٹا سا کام کرنے کے لئے اُسے کہتی ہے۔مگر اُس کی طبیعت اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی۔اور ادھر وہ بات کہتی ہے اُدھر وہ شور مچانے لگ جاتی ہے کہ میری ہتک ہو گئی۔مگر اسی گروہ کا ایک فردگلی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتا ہے اور گلی میں سن کر ہی بیٹھ جاتا ہے اور ایسی حرکت کرتا ہے جو دنیا میں عام طور پر ذلیل سمجھی جاتی ہے۔“ پھر لکھتے ہیں کہ تم یقینا اسے پاگل سمجھو گے مگرصحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے آپ کو پاگل ہی بنا