خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد 11 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء میں روک نہیں بنی۔ان کی عادات سے علاقے کے اکثر لوگ واقف تھے۔ان کی موجودگی میں کبھی کسی کو احمدیت پر اعتراض کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔انہیں تبلیغ کے لئے کسی بھی جگہ کسی بھی وقت بلا یا جاتا تو کبھی انکار نہ کرتے بلکہ یہ سب مصروفیات چھوڑ کر وہاں پہنچ جاتے۔ان کے ایک بیٹے عبدالشافی بھروانہ صاحب سیرالیون میں مبلغ سلسلہ ہیں اور ان کے ایک ہی اکلوتے بیٹے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور تمام رات اپنے ایک دوست کو جو ان دنوں جھنگ آیا ہوا تھا صداقت احمدیت کے دلائل سمجھاتے رہے۔اُس کے تمام سوالوں کا نہایت تحمل سے جواب دیتے اور پھر اس سے کہتے اور کوئی بات بتاؤ جو تمہیں احمدیت قبول کرنے سے روکتی ہو اور پھر اُس کے سوال کے ہر پہلو کا کافی شافی جواب دیتے۔یہ سلسلہ صبح تک چلا۔ساری رات اس طرح رہا۔جب وہ دوست اپنے علاقے میں واپس چلے گئے تو واپس جانے کے بعد اس دوست نے بیعت کر لی اور اپنے گھر ایک خط لکھا جو اُن کے گھر والوں نے مجھے دکھایا۔اُس میں تحریر تھا کہ میں ایک دیہاتی شخص سے ملا جو تمام دن مجھے مویشیوں میں الجھا نظر آتا تھا۔لیکن ایک رات میں نے اُس کی باتیں سنیں تو مجھے علم کا ایک دریا نظر آیا۔بیشک یہ سب علم انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ سے اور بار بار مطالعہ سے حاصل ہوا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کے ایک ہی بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ہے۔اکلوتے بیٹے مبلغ سلسلہ ہیں۔سیرالیون میں آجکل کام کر رہے ہیں۔پچھلے ہفتہ وہاں جلسہ بھی ہورہا تھا اور اُس کی مصروفیت کی وجہ سے بھی اور مجبوریوں کی وجہ سے بھی یہ جانہیں سکے ، اپنے باپ کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے اور بلکہ انہوں نے مجھ سے اس وجہ سے جانے کا پوچھا تک بھی نہیں کہ جلسہ کی مصروفیات ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے والد کی خواہش کے مطابق ان کو بے لوث خدمت سلسلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور اس واقف زندگی کو اپنے والد کی دعاؤں کا وارث بنائے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے ، درجات بلند فرمائے اور ان کے جو لواحقین ہیں سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 8 مارچ 2013 تا 14 مارچ 2013 ، جلد 20 شماره 10 صفحہ 95)