خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد 11 115 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء کا زمانہ عنقریب آنے والا ہے۔کہنے والے نے کہا ہے، دیکھوں گا کس طرح جماعت ترقی کرتی ہے۔مگر میں بھی دیکھوں گا کہ میرے خدا کی بات پوری ہوتی ہے یا اُس شخص کی“۔تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ 628-629 مطبوعہ ربوہ) چنانچہ وہ فتنہ بھی عجیب طرح ختم ہوا کہ وہ لوگ جس کو بعض حکومتی کارندے بھی مدد کر رہے تھے ، وہ حکومت کے خلاف ہی بدل گیا اور ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کی بات پوری ہوئی اور یہ فتنہ آپ مر گیا اور بہت بری طرح مرا۔اب بھی جو کبھی بھی جماعت کے خلاف Planning کی جاتی ہے، سکیمیں بنائی جاتی ہیں، منصوبے بنائے جاتے ہیں ، اگر اُن کو حکومتیں مدد کریں تو وہ حکومتوں کے خلاف ہی ہو جاتے ہیں، یہی ہم نے دیکھا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں ترقیات دکھاتا چلا جائے۔ان صحابہ کا جن کا ذکر ہوا ہے ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیشہ ان کی نسلوں کو بھی ان کی دعاؤں کا بھی وارث بنائے اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔جماعت کے تمام افراد کو بھی ہر قسم کے شر اور فتنہ سے بچائے اور خلافت احمدیہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کی سب کو توفیق عطا فرمائے۔آج بھی نماز جمعہ کے بعد نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم سردار محمد بھروانہ صاحب جھنگ کا ہے جن کی 7 فروری 2013ء کو 73 سال کی عمر میں وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ - ان کے والد احمد خان بھروانہ صاحب تھے۔چنڈ بھروانہ ٹھٹھہ شیرے کا ، کے رہنے والے تھے۔حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں پچاس کی دہائی میں انہوں نے بیعت کی تھی۔اُس وقت اُن کی عمر قریباً دس سال کی تھی اور تبلیغ کا ان کو چھوٹی عمر سے ہی بڑا شوق تھا جو آخر تک قائم رہا۔آپ کی دنیاوی تعلیم تو کوئی خاص نہیں تھی،صرف پرائمری تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور خلفاء کی کتب خاص طور پر حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی کتب کا بڑا گہرا مطالعہ تھا۔جھنگ کے دیہاتی ماحول میں لوگوں کی طبائع کے لحاظ سے آپ نے صداقتِ احمدیت کے دلائل تیار کر رکھے تھے جو مقامی جھنگوی زبان میں پیش کرتے تھے جن کا سننے والوں پر بہت اثر ہوتا تھا۔آپ کو جماعت جھنگ کی طرف سے بھی مختلف جگہوں پر مناظروں کے لئے بھجوایا جاتا تھا۔تبلیغ کے سلسلہ میں اس قدر نڈر تھے کہ لوگوں اور جگہ کی کبھی پرواہ نہیں کی اور دشمنوں کے درمیان بھی بلا جھجک چلے جایا کرتے تھے۔احمدیت کی سچائی کا اظہار کرتے تھے۔کئی دفعہ مد مقابل چیں بجبین ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے لیکن یہ بات کبھی بھی اُن کی تبلیغ اور اظہارِ حق کے راستے