خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 794
خطبات مسر در جلد دہم 794 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء میں کہتا ہوں کہ یہ مسجد نبوی ہے۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔صبح کو میں نے مولوی صاحب کو یہ خواب سنایا ( یعنی اپنے استاد کو) اور آئینہ کمالات اسلام اُن کی خدمت میں پیش کی اور (وہاں سے آ گیا، اُن سے ) رخصت ہوا۔پندرہ روز کے بعد مولوی صاحب نے یہ کتاب پڑھی ، قادیان روانہ ہوئے اور بیعت کر کے واپس آئے۔اسی طرح میاں لال دین بھی بیعت میں داخل ہو گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود - غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 7 صفحہ 234-235 از روایت حضرت محمد فاضل صاحب ) حضرت نظام الدین صاحب ، انہوں نے 1890 ء یا 91ء میں بیعت کی تھی۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بیعت سے بہت پہلے 1883ء۔1884ء میں دیکھ لیا تھا۔کہتے ہیں ” میں ابھی بیعت میں داخل نہیں ہوا۔نماز عصر مسجد مبارک سے پڑھ کر پرانی سیڑھیوں سے جب نیچے اترا تو ابھی سقفی ڈیوڑھی میں تھا ( یعنی وہ ڈیوڑھی جس پر covered area تھا) کہ دو آدمی بڑے معز ز سفید پوش جوان قد والے ملے۔( یہ قادیان گئے ہوئے تھے ) جو مجھے سوال کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کا پتہ مہربانی کر کے بتلائیں کہ کہاں ہیں ؟ ہم بہت دور دراز سے سفر کر کے یہاں پہنچے ہیں۔میں نے کہا آؤ میں بتلا دوں۔انہوں نے کہا نہیں آپ ہمارے پیچھے ہو جائیں۔اوپر ہیں تو ہم پہچانیں گے۔تب میں اُن کے پیچھے ہو لیا۔وہ میرے آگے آگے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چلے گئے۔آگے اجلاس لگا ہوا تھا۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس تھی۔) اور حضور علیہ السلام دستار مبارک سر سے اتارے ہوئے بے تکلف حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔جاتے ہوئے اُن میں سے ایک شخص نے حضور کو جاتے ہی پوچھا کہ آپ کا نام غلام احمد ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔”ہاں“۔پھر اُس نے کہا کہ آپ کا دعویٰ مسیح موعود کا ہے؟ حضور نے فرمایا۔”ہاں“۔تو پھر اُس نے کہا کہ پہلے آپ کو السلام علیکم جنار حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور پھر میری طرف سے اور میں فلاں دن حضوری میں تھا۔( یعنی اپنی خواب کا ذکر کر رہے ہیں ) تب رسولِ خدا کا ہاتھ مبارک حضور کے دائیں کندھے پر تھا۔( یہ آگے وہی شخص اب اپنی خواب بتا رہے ہیں کہ فلاں دن میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھا ) اور رسولِ خدا کا ہاتھ مبارک حضور کے دائیں کندھے پر تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دائیں کندھے پر تھا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”هذا مسِیخ “ ان کی بیعت کرو اور میر اسلام کہو۔( یہ اُن لوگوں نے کہا۔) کہتے ہیں تب میرے دل نے سخت لرزہ کھایا۔( یہ جو روایت بیان کرنے والے ہیں ناں حضرت نظام الدین صاحب، یہ اب آگے اپنا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ )