خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 795 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 795

خطبات مسرور جلد دہم 795 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2012ء تب میرے دل نے سخت لرزہ کھایا اور دعا مسجد اقصیٰ میں بہت زاری سے کی۔اللہ کے صدقے ،اللہ تعالیٰ کے قربان، کیسے جلدی اُس نے میرے آقا کی دعا سے اس عاجز گناہگار کو اُٹھایا ہے۔اسی رات سے بشارتیں اعلیٰ سے اعلیٰ ہونی شروع ہو گئیں۔( جب میں نے دعا کی ) تمام خوابوں کے لئے تو میدانِ کاغذ کی ضرورت ہے ( اتنی خوا میں ہیں کہ انتہا کوئی نہیں) صرف ایک آخری خواب جس نے میرے جیسے عاصی گناہگار کو شرف بیعت حاصل کرنے کی بخشی، جس کا ( ذکر) درج ذیل کرتا ہوں۔کہتے ہیں خواب میں دیکھا کہ ایک دریا شرق سے غرب کو جارہا ہے جس کی چوڑائی تقریباً ایک میل کی ہوگی۔پانی بہت مصفی ہے جیسے کسی نے شعر کہا ہے مصفی ہمچو چشم نیز بیناں مصفی ہمچو از خلوت نشیناں یعنی ایسا صاف جیسے ایک صاف نظر دیکھنے والی آنکھ ہے، جیسے صاف دل ایسا شخص جو خلوت میں ہو، علیحدگی میں ہو، الگ پاک سوچ رکھنے والا ہو، وہ بیٹھا ہوتا ہے۔یہ تشبیہ انہوں نے دی ہے۔بہر حال کہتے ہیں بہت صاف پانی تھا، کوئی شئے اُس میں خوفناک نہیں ہے اور میں بڑی خوشی سے تیر رہا ہوں۔جب مولوی عبد اللہ کشمیری جو اُس وقت تک ( میرا خیال ہے اس وقت تک ) احمدی نہیں تھا اُس نے بہت دور کنارے جنوب سے بلند آواز سے کہا۔اے منشی جی ، اے بابو جی! کیا آپ نہا ر ہے ہیں؟ ذرا دل کی جگہ تو دیکھو جو بالکل خشک ہے۔کہتے ہیں میں نہا رہا تھا۔آواز آئی کہ دل کو دیکھو باوجود پانی میں تیرنے کے بالکل خشک ہے۔تب میں اُسی عالم میں اچھل کر دیکھتا ہوں تو واقعی میرے دل کی جگہ بالکل خشک ہے۔اچھلتا ہوں اور پانی ہاتھوں میں بھر کے دل کی جگہ ڈال رہا ہوں، مگر خشک۔میں کہتا ہوں مولوی عبداللہ ! یہ کیا بات ہے؟ اُس نے جواب دیا۔مشرق کو منہ کر کے دیکھو کیونکہ میں مغرب کی طرف جارہا تھا۔مشرق کی طرف جب منہ کر کے دیکھا تو اُدھر ایک بڑا عظیم الشان پل دریا پر ہے اور اُس پل کے اوپر مرزا صاحب کے گھر ہیں۔میں نے کہا میں اس طرف نہیں جاؤں گا کیونکہ مرزا کے گھر ہیں۔پھر مولوی عبداللہ نے کہا کہ جاؤ تو سہی۔پھر جواب دیا کہ میں اُس طرف نہیں جاؤں گا۔پھر مولوی عبداللہ روئے اور بلند آواز سے کہا کہ جاؤ تو سہی۔تب اللہ تعالیٰ کے صدقے قربان، میں تیرتا ہوا پل سے پار کی طرف شرق ( یعنی مشرق کی طرف) چلا گیا۔اُس طرف نکلا تو کنارہ گھاس والا پانی کے برابر ملا۔محنت کر کے گھاس والے کنارے پر کھڑا ہوکر تمام بدن سے پانی نچوڑ رہا ہوں (خواب میں دیکھتے ہیں ) مگر دل کا پانی جو خشک جگہ دل کی تھی (یعنی پہلے جب دریا میں نہا رہے تھے تو دل خشک تھا لیکن جب یہاں کھڑے ہو کر جسم سے پانی نچوڑنا