خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 784
خطبات مسرور جلد و هم 784 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012ء پھر مالٹا (Malta) سے مالٹا (Malta) ملک کا نام ہے ) پروفیسر آرنلڈ کا سولہ (Prof۔Arnold Cassola) صاحب بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔یونیورسٹی آف مالٹا میں بطور پروفیسر کام کر رہے ہیں۔مالٹی لٹریچر پڑھاتے ہیں۔یہ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔مالٹا کی تیسری سیاسی جماعت مالٹا گرین پارٹی کے (CO Founder) ہیں۔کئی سال تک گرین پارٹی کے سر براہ رہے۔ان کو اٹالین پارلیمنٹ میں بھی ممبر آف پارلیمنٹ رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔اپنا تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کانفرنس کا انتظام نہایت اعلیٰ تھا۔کہیں کسی قسم کی کمی نظر نہیں آئی۔جماعت احمدیہ کا عالمی بھائی چارے کا تصور اور ماٹو محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“ ایک نہایت اہمیت کا حامل تصور ہے جو تمام انسانیت کو اکٹھا کر دیتا ہے اور ہر قسم کی نسلی اور مذہبی تفریق کو الگ کر کے انسان کو یکجا کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔خلیفہ کی تقریر عالمی امن کے قیام کی جدو جہد کی واضح عکاسی کرتی ہے۔درحقیقت جماعت احمد یہ دنیا کے تمام لوگوں کے لئے جو امن اور رواداری کی تلاش میں ہیں مذاکرات کا ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے یہاں تک کہ سیاسی سطح پر بھی وہ اس معاملہ کو خوب اچھی طرح سے پیش کر رہی ہے۔پھر دوسرے مہمان جو مالٹا سے آئے ہوئے تھے ، اوان بار تو لو (Ivan Bartolo) صاحب، ان کا تعلق میڈیا سے ہے۔وہ ٹی وی کے پروگراموں کے پروڈیوسر بھی ہیں ، ان کو جماعت سے اس طرح تعارف ہوا تھا کہ لیف لیٹ سکیم جو شروع کی گئی ہے، اس کے تحت جب وہاں لیف لیٹ (Leaflet) تقسیم کئے گئے تو جب ان کو لیف لیٹ ملا تو اس پر بڑے متأثر ہوئے اور انہوں نے خود جماعت سے رابطہ کیا۔اور پھر یہ تعلقات بڑھتے گئے۔وہ کہتے ہیں کہ امن کے قیام کے لئے آپ کی گراں قدر خدمات ہیں جس کا میں بڑا مداح ہوں اور پھر میرے بارے میں کہتے ہیں کہ جو کچھ اُن کے متعلق پڑھا تھا اس سے کہیں زیادہ اُن کو پایا۔آپ کا پیغام دائی ہے۔مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کا پیغام می لوگوں تک پہنچا ہے۔آپ کی کوششوں ، امن اور عالمی بھائی چارے کے لئے آپ کے مشن اور جدو جہد سے بہت متاثر ہوا ہوں۔اور پھر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کا واقعہ سنایا ہے جو وہیں بیلجیئم میں ، برسلز میں اُن کو ملی تھیں کہ جب اُس کو بتایا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ یہاں ایک پروگرام ہے تو اُس نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ کے پروگرام عموماً اتنے آرگنا ئز نہیں ہوتے۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں یہ جماعت احمدیہ کا پروگرام ہے۔اس پر وہ عورت کہنے لگی ہاں اُن کو میں جانتی ہوں۔اُن کے پروگرام ہمیشہ بڑے آرگنا ئز ہوتے ہیں۔پھر Mr Christian Mirre جو چرچ آف سائینٹالوجی یورپ کے ممبر ہیں ، نے اپنے