خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 783 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 783

خطبات مسرور جلد دہم 783 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2012 ء ایک اعزاز کی بات ہے۔پھر کہتی ہیں میں آپ کے تصورات کی کامل تائید کرتی ہوں۔عالمی انسانی حقوق کی بحالی اور دنیا میں امن کے قیام کی تمام باتوں سے اتفاق کرتی ہوں۔میں ہمیشہ مذہب کی بنیاد پر مظالم کی مذمت کرتی رہوں گی۔پھر سپین سے ہی جو سمار یا الونسو (Jose Maria Alonso) اور میڈرڈ میں پاپولر پارٹی کی نمائندہ رکن اسمبلی ہیں۔ان کا تعلق کتنا بریہ (Cantabria) سپین سے ہے۔پہلے تو مجھے ملنے کے بعد تاثرات کا اظہار کیا۔پھر کہتی ہیں کہ باقی تمام احمدیوں سے مل کر بھی میرے وہی جذبات ہیں جو خلیفہ سے مل کر تھے۔یہ تمام جماعت بہت مہمان نواز اور پر امن ہے۔اور خلیفہ کے مطابق مذاہب کا مقصد بنی نوع انسان کے مابین مصائب بڑھانا نہیں بلکہ محبت بڑھانا ہے۔سینڈیا گو کٹالہ (Santiago Catala صاحب جو کہ کوئنسها یا کوئنکا یونیورسٹی Cuenca University میں لاء (Law) پروفیسر ہیں۔بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں Islam in' 'Valencia اور 'Islamic Jurisprudence' شامل ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ میرے الفاظ خلیفہ تک پہنچائیں اور اُن تمام لوگوں تک بھی جن سے عشائیہ پر ملاقات ہوئی اور ان سپینش احباب تک بھی جو ہمارے ساتھ موجود تھے۔انہیں میری طرف سے شکریہ کے جذبات پہنچائیں۔میں آپ سب سے مل کر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں خدا ہمیں مزید ملنے کے مواقع فراہم کرے گا۔پھر کہتے ہیں خدا آپ پر بہت مہربان ہے اور میں بھی خدا کے نام پر آپ کے لئے بھلائی چاہتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ آپ کو خدا دولت اور امن عطا کرے۔کہتے ہیں میں مذہبی شخص ہوں اور بعض روحانی تجربات رکھتا ہوں۔ایک عرصے سے میں نے ایسا مذ ہبی ماحول نہیں دیکھا تھا۔ہم جانتے ہیں کہ روحانی شخص وہ ہوتا ہے جو سیدھی راہ پر ہو، وہ خدا کے ساتھ ہواورخدا اُس کے ساتھ ہو۔پھر سپین سے ایک وکیل عورت تھیں وہ شامل ہوئیں۔واپس جا کر انہوں نے جو پیغام بھیجا یہ ہے کہ پین سے آنے والے ایک احمدی دوست قمر صاحب نے کہا تھا ( یہ اُن کے ساتھ آئی تھیں ) کہ یہ دن بیمثال ہوں گے اور یقینا وہ غلط نہ تھے۔مجھے امید ہے کہ خدا نے چاہا تو ان دنوں میں جو آپ کی جماعت نے کام کئے ہیں وہ ضرور رنگ لائیں گے۔سپین بھی ایسا ملک ہے جہاں ایک زمانے میں تو اسلام تھا اور اب وہاں اسلام کے لئے اتنی شدید دشمنی ہے ، نفرت ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں۔بعض علاقوں میں تو بہت حد سے بڑھی ہوئی ہے۔