خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 765 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 765

خطبات مسرور جلد و هم کو اس کی خواہش ہونی چاہئے۔765 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012 ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا یا دریا میں ڈوب گیا یا وباء میں مر گیا وغیرہ۔مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفاء کرنا اور اسی حد تک اس کو محد و درکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کر سکتا۔(اُس کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا ) وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے۔یہانتک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لئے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اُس کو ملتا ہے (غیر معمولی استقلال اُس کو ملتا ہے اور وہ بڑوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کئے اپنا سر رکھ دیتا ہے ( بغیر کسی غم ، بغیر کسی حسرت کے وہ اپنا سر قربانی کے لئے پیش کر دیتا ہے ) فرمایا: اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں۔ایک ایسی لذت اور شرور اُس کی رُوح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو اُس کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو اُس کو پیس ڈالے، اُس کو پہنچتی ہے۔وہ اُس کو ایک نئی زندگی ، نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی۔پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔فرمایا ” پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔عبادت شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں“ ( یعنی عبادت کرنے میں ایک مشقت بھی اُٹھاتے ہیں) اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، وہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں۔اور جیسے شہد فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ (النحل: 70) کا مصداق ہے یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔اُن کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پا جاتے ہیں۔اگر صرف مرنے سے ہی شہادت ملتی ہے تو پھر انسان صحبت سے کس طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنا ، اللہ تعالیٰ کا قرب پانا جو حقیقی نیکیاں ہیں یہ بھی شہید کا ایک مقام ہے جس کی صحبت میں رہنے والے، فرمایا کہ مختلف مرضوں سے نجات پا جاتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں اور پھر شہید اس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انساں اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے۔اس کا نام احسان بھی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 276۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ شہید کا مقام یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا خدا کو دیکھتا ہے اور یقین کرتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحه 423 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )