خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 766 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 766

خطبات مسرور جلد دہم 766 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء یعنی جو کام بھی عموما کر رہا ہو اُس میں اُسے یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے اس کام کو دیکھ رہا ہے اور جب یہ صورت ہو تو پھر توجہ ہمیشہ نیک کاموں کی طرف ہی رہتی ہے۔پھر کوئی بد کام انسان نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے احسان کیا چیز ہے۔فرمایا کہ جب یہ حالت ہو تو احسان ہو جاتا ہے۔احسان کیا چیز ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا کا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم اُس سے اور اُس کی خلقت سے عدل کا معاملہ کرو“ (احسان سے پہلے کی جو ایک حالت ہے وہ عدل ہے)۔پھر فرمایا کہ " یعنی حق اللہ اور حق العباد بجالاؤ۔اور اگر اس سے بڑھ کر ہو سکے تو نہ صرف عدل بلکہ احسان کرو یعنی فرائض سے زیادہ۔اور ایسے اخلاص سے خدا کی بندگی کرو کہ گویا تم اس کو دیکھتے ہو۔ایک تو فرائض مقرر کئے گئے ہیں ، وہ عبادتیں تو کرنی ہیں لیکن اُس سے بڑھ کر جو نوافل ہیں اُن کی ادائیگی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق جوڑنا ہے، یہ کرو گے تو یہ بندگی ہے، یہ احسان ہے۔اور یہ پھر اُن رتبوں کی طرف لے جاتی ہے جو شہادت کے رتبے ہیں اور فرمایا کہ اور حقوق سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مروت وسلوک کرو۔شحنه حق روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 361-362) صرف لوگوں کے حق دینا کام نہیں ہے بلکہ اس کے اعلیٰ درجے پانے کے لئے ، اُن لوگوں میں شامل ہونے کے لئے جو شہید کا درجہ پاتے ہیں ، لوگوں کا جو حق ہے وہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اُن سے پیار اور محبت ، نرمی اور احسان کا سلوک کرو۔پھر یہ ذکر فرماتے ہوئے کہ عدل کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کرو کہ یہ یقین ہو کہ اُس کے علاوہ اور کوئی پرستش کے لائق نہیں، کوئی عبادت کے لائق نہیں ، کوئی بھی محبت کے لائق نہیں، کوئی بھی تو کل کے لائق نہیں۔اُس کے علاوہ کسی پر توکل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ خالق بھی ہے۔اس زندگی کو اور اس کی نعمتوں کو قائم رکھنے والا بھی ہے اور وہی رب بھی ہے جو پالتا ہے اور اپنی نعمتیں مہیا فرماتا ہے۔فرمایا ایک مومن کے لئے اتنا کافی نہیں ہے کہ اس نے ان باتوں پر یقین کر لیا یا صرف یہ سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب طاقتوں کا مالک ہے اور رب ہے بلکہ اس پر ترقی ہونی چاہئے ، اس سے قدم آگے بڑھنے چاہئیں۔اور وہ ترقی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کے ایسے قائل ہو جاؤ اور اُس کے آگے اپنی پرستشوں ( یعنی عبادتوں ) میں ایسے متادب بن جاؤ“۔( یہ حالت ہونی چاہئے کہ ایسا ادب اللہ تعالیٰ کے آگے ہو،