خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 764 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 764

خطبات مسرور جلد دہم 764 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012 ء سلسل اللہ تعالیٰ نے بھی انسان کا جو مقصد پیدائش بیان فرمایا ہے وہ عبادت ہی بیان فرمایا ہے۔پس ایک حقیقی مومن کا پیدائش کا مقصد صرف ایک دفعہ کی زندگی قربان کرنا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش ہے اور ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہنا ہے۔ہاں یہ بھی احادیث میں آتا ہے کہ ایک مومن جنگ کی خواہش نہ کرے۔لیکن جب زبر دستی اُسے اس میں گھسیٹا جائے ، جب دین کے مقابلے پر ایک مومن کی جان لینے کی کوشش کی جائے تو پھر وہ ڈر کر پیچھے نہ ہٹے بلکہ مردانہ وار اپنی جان کا نذرانہ پیش کرے اور اس سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔(صحیح بخارى كتاب الجهاد والسير باب لا تمنو القاء العدو حديث: 3025) جب جنگوں کی اجازت اور حالات تھے تو دشمن کا مقابلہ کر کے یا جان قربان کر کے ایک مومن شہادت کا رتبہ پا تا تھا یا نخ پاتا تھا اور اس میں کسی قسم کا خوف اور ڈر شامل نہیں ہوتا تھا۔آجکل کے حالات میں جنگ تو ہے نہیں۔جماعت احمدیہ کے دشمن بھی ہیں اور ہمارے جو دشمن ہیں ، جو بزدل دشمن ہے یہ چھپ کر حملہ کرتا ہے۔لیکن اگر سامنے آ کر بھی حملہ کرے تو پھر بھی جنگ کرنے کا تو حکم نہیں ہے۔بعض احمد یوں کو وارننگ کے خطوط بھی آتے ہیں کہ یا احمدیت چھوڑ دو یا مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔تو اُس وقت ایک مومن کی مردانگی یہی ہے اور پاکستان کے احمدی اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جان تو بیشک چلی جائے مگر دین اور خدا تعالیٰ کی رضا کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔پس یہ ایک مومن کا امتیاز ہے جو مختلف حالات میں، مختلف صورتوں میں قائم رہتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین میں شامل ہونے کے لئے مومن کو دعا بھی سکھائی ہے۔لیکن شہادت کی وسعت کیا ہے؟ جیسا کہ میں نے کہا اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا فلسفہ کیا ہے؟ اس کی گہرائی کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے ہمیں زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے جنہوں نے ہمیں کھول کر اور واضح کر کے اس بارے میں سمجھایا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ اس وقت میں یہ آیت جو پہلے بیان کر چکا ہوں، نبی ، صدیق اور شہید اور صالحین ان سب کی خصوصیات کے بارے میں تو بیان نہیں کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شہید کے بارے میں سوال ہوتا ہے اور اُسی کو آپ کی تفسیر اور وضاحت کی روشنی میں اس وقت بیان کروں گا۔کیونکہ شہید کا ہی ذکر ہو رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعدد جگہ شہید کی حقیقت کے بارے میں، اس کے رتبہ اور مقام کے بارے میں لکھا ہے۔میں چند اقتباسات پیش کروں گا جن سے واضح ہوتا ہے کہ شہید بننے کے لئے دعا کرنا کیوں ضروری ہے؟ اور کس قسم کا شہید بننے کے لئے دعا کی جانی چاہئے اور کیوں ایک حقیقی مومن