خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 737
خطبات مسرور جلد دہم 737 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012 ء ایک روایت میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک میرے بھائی نواب دین کو خواب آیا کہ حضور نے میرے سے آٹھ آنے کے پیسے مانگے ہیں۔پھر میں اور نواب دین دونوں پیسے دینے گئے اور خواب سنائی تو حضور نے فرمایا کہ اس خواب کے نتیجے میں تم علم پڑھو گے۔سوجب مولوی سکندر علی ہمارے گاؤں میں آگئے تو اُن سے میں نے اور نواب دین نے بلکہ اور بہت سارے لوگوں نے قرآن مجید پڑھا اور کچھ اُردو کی کتابیں بھی پڑھیں۔جو حضور کا فرمانا تھا پورا ہو گیا۔پھر آگے کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں ایک پیپل کا درخت تھا جو ہم نے مرزا نظام الدین صاحب کے پاس فروخت کیا تھا اور اُس وقت ہمارے گاؤں میں بیماری طاعون تھی اور ہم نے وہ روپے جو پیپل کی قیمت کے تھے وہ سیر پر آتے وقت حضرت صاحب کے آگے نذر کر دیئے اور حضور راستے سے ہٹ کر ہمارے گاؤں میں مسجد کے پاس آ کر دعا کرنے لگ گئے اور بیماری دور ہوگئی۔گاؤں میں جو بیماری تھی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 1 صفحہ 56-57 روایت حضرت چوہدری فتح محمد صاحب) حضرت فضل دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیعت کا ذکر فرماتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ میں پہلے پہل ایک آزادانہ خیال کا آدمی تھا۔چند سال آزاد خیالی میں گزر گئے۔بعدہ رفتہ رفتہ چند دوستوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو کر میں نقشبندی خاندان کا مرید ہو گیا کیونکہ میرے دوست بھی نقشبندی خاندان کے مرید تھے اور وہ ہمارا مرشد ہمارے ہی گاؤں میں رہتا تھا۔چونکہ یہ خاندان اپنے آپ کو شریعت کا پابند کہلاتا تھا اور اپنا سلسلہ حضرت ابو بکر صدیق سے ملاتا تھا اس واسطے شروع بیعت میں مجھ کو نماز اور روزہ کی سخت تاکید فرمائی اور نماز تہجد کی بھی تاکیدا تا کید فرمائی اور حکم دیا کہ نماز تہجد کبھی بھی نہ چھوڑی جاوے اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ جو خواب آوے وہ کسی سے بیان نہ کی جائے۔اس عرصے میں مجھ کو کئی خوا میں آئیں اور میں نے وہ کسی سے بیان نہ کیں۔چونکہ میں کام معماری کا کرتا تھا بسبب نہ ملنے کام کے میں باجازت اپنے مرشد کے بمع بیوی امرتسر چلا گیا اور وہاں ایک مکان کرایہ پر رہنے لگا۔وہاں ہی کام کرتا تھا۔عرصہ دو سال کے بعد ایک دن میں نماز تہجد کی پڑھ کر وظائف میں مصروف تھا کہ وظائف کی حالت میں مجھے نیند سی آ گئی اور میں جائے نماز پر لیٹ گیا۔چنانچہ میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان سے ایک فوج فرشتوں کی بشکل انسانی میرے اردگرد کچھ فاصلے پر حلقہ کر کے بیٹھ گئے اور ایک افسر جو عہدہ جرنیلی کا رکھتا تھا، میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔اُس کے بیٹھنے کے بعد ایک تخت زریں آسمان سے اترا اور اس حلقے کے اندر تخت رکھ دیا گیا اور سب فوج تعظیماً کھڑی ہو گئی اور جب میں نے دیکھا تو اس تخت زریں پر دو بزرگ ہمشکل اور نورانی شکل