خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 738 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 738

خطبات مسرور جلد دہم 738 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء اور ہر طرف اُن کے نور ہی نور تھا بیٹھے تھے۔تب میں نے اس افسر سے جو میرے نزدیک تھا پوچھا کہ یہ بزرگ کون ہیں؟ تب اُس نے کہا کہ جو بزرگ دائیں طرف تخت پر ہیں وہ خدا کا پیار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جو بائیں طرف ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا ابنِ مریم ہیں۔میں نے کہا ابنِ مریم تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے جو اسرائیل کا نبی تھا۔اُس نے کہا یہ وہ نہیں ، وہ تو فوت ہو چکا۔یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پیارا ابنِ مریم ہے۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے یہ آوازہ فرمایا اور اس افسر کو فرمایا کہ بلند آواز سے لوگوں کو کہہ دے کہ جب یہ ہمارا ابنِ مریم آوے، اُس کی تابعداری کرنی ضروری ہے اور جس نے تابعداری نہ کی وہ مجھ سے نہیں۔اس عرصے میں میری بیوی نے مجھے جگا دیا اور کہا کہ صبح کی اذان ہوگئی ہے آپ تہجد کے بعد کبھی سوئے نہیں تھے، اٹھو اور نماز کے لئے مسجد میں جاؤ۔اُس وقت اپنی بیوی پر میں بہت خفا ہوا کہ تو نے مجھ کو کیوں جگایا۔خیر اگلے روز میں گاؤں کو چلا گیا اور تمام ماجرا میں نے اپنے خواب کا اپنے مرشد کو کہہ سنایا۔اُس نے کہا کہ مبارک ہو تم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔اور پھر کہا کہ اب ہم غیر کے علاقے میں ہوں گے اور عنقریب ابن مریم نازل ہوں گے۔یعنی خواب کی تعبیر یہ کی، غیر کے علاقے میں ہوں گے عنقریب ابنِ مریم نازل ہوں گے۔بلکہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہی زمانہ ہے۔خوش نصیب ہیں وہ جو اُس کو پاویں گے۔یہ مرشد نے جواب دیا۔کہتے ہیں اس کے بعد میں نے محکمہ نہر میں مستری کی ملازمت کی۔ایک بابو کے ذریعے سے اور اس ملازمت میں کسی کلرک کے ذریعے سے ملازمت کی اور ملازمت میں مجھ کو بہت سی خوا میں آئیں اور بسبب منع کرنے کے ( یعنی اُس پیر اور مرشد جو تھا اُس نے منع کیا تھا کہ خواہیں نہیں بتانی ) تو منع کرنے کی وجہ سے میں نے کسی سے ظاہر نہ کیں۔پندرہ بیس سال تک میں نے ملازمت کی۔بعد میں ملازمت چھوڑ کر اپنے گاؤں کو چلا گیا اور اپنے گھر پر رہنے لگا۔لہذا ہماری برادری میں سے مولوی محمد چراغ صاحب جو ہمارے استاد بھی تھے اور وہ پکے اہلحدیث تھے۔جب میں ملازمت چھوڑ کر واپس چلا آیا تو ان کو میں نے احمدی طریقے پر پایا۔وہ احمدی ہو گئے تھے اور میرے ساتھ حضرت صاحب کے سلسلے کی گفتگو شروع کر دی لیکن میں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی کیونکہ میں فقیروں کا معتقد تھا اور جانتا تھا کہ فقیر ہی اصل شریعت کے مالک ہیں۔اس واسطے میں نے مولوی صاحب کو کوئی جواب نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہاں آجکل ایسے لوگوں نے دوکانداریاں بنا رکھی ہیں اور خلق خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔لہذا میں نے ارادہ کیا کہ اپنے مرشد سے تحقیقات کراؤں کہ کیا یہ دعویٰ حضرت صاحب منجانب اللہ ہے یا دھوکہ ہے۔جب میں اُن کے مکان پر گیا اور