خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 735 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 735

خطبات مسر در جلد دہم 735 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء نے پیش فرمائی ہیں۔سو یہ چیز ہے اصل میں جو خدا تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین پیدا کرتی ہے۔بہر حال اس مضمون کی گہرائی تو بہت ہے، تفصیل میں اس وقت تو نہیں جایا جا سکتا۔براہین احمدیہ میں جو لکھا ہوا ہے وہ پڑھیں) کہتے ہیں بہر حال آدھی رات کا وقت تھا جب میں یہ کتاب پڑھ رہا تھا۔” ہونا چاہئے“ اور ” ہے“ کے مقام پر پہنچا تو پڑھتے ہی معا توبہ کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور میں نے توبہ کر لی۔کورا گھڑا پانی کا بھرا ہوا صحن میں پڑا تھا۔یعنی نیا گھڑا ٹھنڈے پانی کا صحن میں پڑا ہوا تھا، جنوری کے دن اور پانی گھڑے کا کتنا یخ ہوگا، تصور کریں۔اور تختہ سہ پائی میرے پاس تھی ، سرد پانی سے لاچا( نہ بند ) پاک کیا۔ٹھنڈے پانی سے اپنا نہ بند جو ہے اُس کو دھویا۔میر الملازم سمی منگتوسور ہا تھا۔وہ بھی جب میں دھور ہا تھا تو جاگ پڑا اور وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا ہوا؟ کیا ہوا ؟ یہ تہ بند جو ہے، لاچا ہے مجھے دو میں دھوتا ہوں۔مگر میں اُس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔آخر منگتو اپنا سارا زور لگا کر خاموش ہو گیا اور کہتے ہیں کہ گیلا تہ بند باندھ کے میں نے نماز پڑھنی شروع کی اور منگتو دیکھتا گیا اور محویت کے عالم میں میری نماز اس قدر لمبی ہوئی کہ منگتو جو ملازم تھا وہ تھک کے سو گیا اور میں نماز میں مشغول رہا۔پس یہ نماز براہین نے پڑھائی کہ بعد ازاں اب تک میں نے نماز نہیں چھوڑی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ معجزہ بیان کرنے کے لئے مذکورہ بالا طوطیہ تمہید میں نے باندھا تھا۔یعنی یہ لمبی اور خوبصورت تمہید میں نے یہ معجزہ بیان کرنے کے لئے باندھی ہے کہ کس طرح براہین احمدیہ نے میرے اندر ایک انقلاب پیدا کیا۔کہتے ہیں عین جوانی میں بحالت ناکتخدا ( یعنی میرے جوانی کے دن تھے اور میں غیر شادی شدہ بھی تھا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ایمان جو ثریا سے شاید او پر ہی گیا ہوا تھا اتار کر میرے دل پر داخل کیا اور مسلماں را مسلماں باز کردند کا مصداق بنایا۔جس رات میں میں بحالت کفر داخل ہوا تھا اس کی صبح مجھ پر بحالت اسلام ہوئی۔براہین احمدیہ پڑھنے کی وجہ سے۔اس مسلمانی پر جب میری صبح ہوئی تو میں وہ محمد دین نہ تھا جو کل شام تک تھا۔فطرتا مجھ میں حیا کی خصلت اچھی تھی۔فطرت میں یہ تھا میرے اندر حیا تھی لیکن اوباشوں کی صحبت میں عنقا ہو چکی تھی (یعنی ختم ہوگئی تھی غلط لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے مجھے وہی خصلت حیا واپس دی۔میں اس وقت اس آیت کے پر تو کے تحت مزے لے رہا تھا۔سورۃ حجرات کی یہ آیت نمبر 7 یہاں لکھا ہے لیکن یہ 8,9 آیت ہے کہ اللهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ في قُلُوبِكُمْ وَكَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّشِدُونَ - فَضْلًا