خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 734
خطبات مسرور جلد و هم 734 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012 ء صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے خیال کیا کہ جب بادشاہ کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے کا یہ الہام ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ تو کیا ہمیں برکت حاصل نہ ہوگی۔اُن کی آنکھوں سے پانی بہتا تھا۔انہوں نے حضور کی پگڑی کا پلہ ایک موقع ملا اُن کو تو آنکھوں پر پھیرا تو آ نکھیں اچھی ہو گئیں۔کہتے ہیں مجھے بھی کرے تھے آنکھوں میں ، میں نے بھی پلہ اپنی آنکھوں پر پھیرا اور وہ اچھی ہوگئیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 118 - 119 روایت حضرت میاں محمد شریف صاحب کشمیری) اب یہ ایک واقعہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کا اثر بلکہ یہاں دو واقعات ہیں۔حضرت میاں محمد الدین صاحب ولد میاں نورالدین صاحب فرماتے ہیں، (اپنا بیان دے رہے ہیں پچھلا چلتا چلا آ رہا ہے ) کہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ آریہ، برہمو، دہر یہ لیکچر اروں کے بداثر نے مجھے اور مجھ جیسے اور اکثروں کو ہلاک کر دیا تھا، یعنی خدا تعالیٰ سے دور لے گئے تھے، اسلام سے دور لے گئے تھے اور ان اثرات کے ماتحت لا یعنی زندگی بسر کر رہا تھا کہ براہین احمدیہ پڑھنے کو ملی تو وہ پڑھنی شروع کی۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے کتاب پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔بہت سارے ایسے ہیں جن کو یہ توفیق ہی نہیں ملتی اور ضد اُن کی طبیعت میں ہوتی ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمانا تھا۔کہتے ہیں مجھے براہین احمد بیل گئی، پڑھنی شروع کی۔پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں ، صفحہ 90 کے حاشیہ نمبر 2 پر اور صحہ نمبر 149 کے حاشیہ نمبر 11 پر پہنچا تو معا میری دہریت کا فور ہو گئی۔( یہ روحانی خزائن کی پہلی جلد کا صفحہ 78 ہے اور حاشیہ 2 انہوں نے میرا خیال ہے غلطی سے یہاں لکھا ہوا ہے۔کیونکہ اردو میں پہلے گنتی لکھی جاتی ہے۔یہ 2 نہیں ہے، حاشیہ نمبر 4 ہے۔اور اسی طرح روحانی خزائن کی جو جلد 1 ہے اُس کے صفحہ نمبر 153 میں یہ حوالہ ہے جو چار پانچ صفحے آگے حاشیہ نمبر 11 سے شروع ہوتا ہے۔اس کو پڑھا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی کی بات واضح ہوتی ہے۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ میں وہاں پہنچا تو معاًمیری دہریت کا فور ہوگئی اور میری آنکھ ایسے کھلی جس طرح کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا جاگ کر زندہ ہو جاتا ہے۔سردی کا موسم، جنوری 1893ء کی 19 تاریخ تھی۔آدھی رات کا وقت تھا کہ جب میں ہونا چاہئے اور ہے کے مقام پر پہنچا۔( یہاں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا بیان ہو رہا ہے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمار ہے ہیں کہ ہر چیز جو وجود میں آتی ہے یہ خیال پیدا ہوتا ہے اُس کو بنانے والا کوئی ہونا چاہئے اور یہ کہ اس کا بنانے والا کوئی ہے۔یہ دو چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام