خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 733 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 733

خطبات مسرور جلد دہم 733 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء سے لا کر دے دیں اور فرمایا کہ میں کل لدھیانہ جارہا ہوں ، آپ یہ علاج شروع کریں، بیماری خطرناک ہے اس لئے مجھے بذریعہ خط اطلاع دینا یا خود پہنچنا۔کہتے ہیں ہم نے وہ نسخہ لے لیا اور حضرت مولانا نورالدین کو دکھایا۔آپ نے فرمایا کہ یہ نسخہ اس بیماری والے کے لئے سخت مضر ہے۔اگر میں کسی ایسے مریض کو یہ نسخہ دوں تو وہ ایک منٹ میں مر جائے گا۔مگر یہ نسخہ حضور کا ہے اس لئے یہ لڑ کی ضرور صحت یاب ہو جائے گی۔چنانچہ ہم نے وہ نسخہ استعمال کروایا اورلڑکی کو دو تین دن میں ہی آرام ہو گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 11 صفحہ 70-69 روایت حضرت شیخ زین العابدین صاحب) حضرت خلیفہ اول کا بھی تو خیر یہ کامل یقین تھا ہی، اسی لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نورالدین جیسے مجھے مل جائیں تو انقلاب پیدا ہو جائیں۔لیکن اُن دیہاتیوں کا بھی یہ ایمان تھا کہ جیسا بھی نسخہ ہے ہم نے استعمال کرنا ہے اور اسی سے شفا ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی۔حضرت میاں محمد شریف صاحب کشمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی برادر مولوی امام الدین صاحب سیکھوانی نے حضور سے عرض کیا ( حضور مسجد میں اوپر تشریف رکھتے تھے ) کہ حضور یہ ہمارا بھائی محمد شریف ہے اور ان کی طرف طاعون کی بیماری کا بہت زور ہے۔یعنی اُس علاقے میں جہاں سے یہ آئے تھے۔ان کے لئے دعا کریں۔تو حضور علیہ السلام نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ طاعون کس طرح ہوتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ پہلے چو ہے مرتے ہیں۔فرمانے لگے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نوٹس ہے۔پھر میں نے عرض کیا کہ حضور ! جب سرخ پھوڑا نکلے تو وہ بیمار بیچ جاتا ہے اور زرد والا نہیں بچتا۔حضور نے فرمایا کہ کیا آپ وہاں جایا کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا، پوچھا کیا میں جایا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ پر ہیز ہی اچھا ہے۔عام طور پر ان کے پاس نہ جایا کرو۔مگر جس کو ایمان حاصل ہے اُس کو کوئی خطرہ نہیں وہ طاعون سے نہ مرے گا۔میں نے عرض کیا کہ میری بیوی طاعون سے مری ہے۔حضور نے فرما یا معلوم ہوتا ہے مجھ پر اُس کا کامل ایمان نہیں تھا۔اگر ایمان ہوتا تو وہ ایسی بیماری سے نہ مرتی۔تو کہتے ہیں میں سمجھ گیا کہ اُس نے بیعت نہیں کی تھی۔پھر حضور نے فرمایا کہ آپ استغفار پڑھا کریں۔ہمارا سارا کنبہ بیماری میں مبتلا تھا۔حضور کو میں نے لکھا تو حضور نے پھر فرمایا کہ استغفار پڑھو اور ہم نے پڑھا اور اللہ کے فضل سے سب اچھے ہو گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحه 115 - 116 روایت حضرت میاں محمد شریف صاحب کشمیری) میاں محمد شریف کشمیری صاحب ہی فرماتے ہیں کہ جمال الدین صاحب سیکھوانی ولد میاں صدیق