خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 715 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 715

خطبات مسرور جلد دہم 715 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء اَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران : 170)۔اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اُن کو ہرگز مُردے گمان نہ کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اور اُن کو اپنے رب کے ہاں رزق عطا کیا جا رہا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ اعزاز آج صرف افراد جماعت احمدیہ کو ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے جار ہے ہیں جو اپنے ایمانوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔پس جیسا کہ میں پہلے بھی کئی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ دشمن کے قتل و غارت کے یہ ہتھکنڈے احمدی کو اُس کے دین سے منحرف نہیں کر سکتے۔انشاء اللہ۔یہ شہید جنہوں نے کوئٹہ میں یہ اعزاز حاصل کیا ہے ان کا نام مکرم منظور احمد صاحب ابن مکرم نواب خان صاحب ہے جن کو 11 نومبر 2012ء کو سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں شہید کیا گیا۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم نواب خان صاحب کی پڑدادی محترمہ بھاگ بھری صاحبہ المعروف محترمہ بھا گو صاحبہ کے ذریعے ہوا۔محترمہ بھا گو صاحبہ قادیان کے قریب منگل کی رہنے والی تھیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اس طرح آپ صحابہ تھیں۔قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے ضلع ساہیوال رہائش پذیر ہوا۔1965ء میں کوئٹہ چلا گیا۔منظور احمد صاحب شہید 1978ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔میٹرک کے بعد 1996 ء میں اپنا کام شروع کیا اور ہارڈویئر کی دوکان بنائی۔تھوڑے عرصے میں اللہ تعالیٰ نے کاروبار میں نمایاں برکت دی۔شہادت کا واقعہ ان کا یوں ہے کہ مرحوم 11 نومبر 2012ء کی صبح آٹھ بجے کے قریب اپنے گھر واقع سیٹلائٹ ٹاؤن سے اپنی دوکان پر (جو کہ قریب ہی ہے) جانے کے لئے پیدل گھر سے نکلے ہی تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار افراد آئے جن میں سے ایک شخص موٹر سائیکل سے اتر کر منظور احمد صاحب کی طرف بڑھا اور گولی چلانے کی کوشش کی لیکن قریب ہونے کی وجہ سے منظور صاحب سے اس کی مڈھ بھیڑ ہوگئی۔وہاں لڑائی شروع ہو گئی۔انہوں نے اُس کو قابو کرنے کی کوشش کی اور منظور احمد صاحب اُس سے چھوٹ کر پیچھے گھر کی طرف بھاگے، کیونکہ وہ دو تھے اس لئے بچت یہی تھی کہ گھر آ جاتے۔گھر کے گیٹ کے ستون کے ساتھ اُن کا گھٹنا ٹکرا یا جس کی وجہ سے نیچے گر گئے۔جس پر حملہ آور اُن کے پیچھے آیا اور منظور صاحب کے گرنے پر اُس نے اُن پر گولیاں چلا ئیں۔ایک گولی سر سے رگڑ کھا کر گزرگئی جبکہ دوسری گولی سر کے پچھلے حصہ میں اور آگے ناک اور ماتھے کے درمیان سے نکل گئی جس سے موقع پر ہی شہادت ہوگئی۔انا للہ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرحوم کو کافی عرصے سے