خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 716 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 716

خطبات مسر در جلد دہم 716 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء مذہبی مخالفت کا سامنا تھا۔ارد گرد کے دکاندار بھی مخالفت میں پیش پیش تھے۔علاقے میں کچھ عرصے سے جماعت کے خلاف بائیکاٹ کی مہم منظم انداز میں چلائی جا رہی ہے۔حلقہ سیٹلائٹ ٹاؤن کی معروف گول مسجد میں ڈیرہ غازی خان سے ایک مولوی آ کر احمدیوں کے واجب القتل ہونے کے فتوے جاری کرتا رہتا ہے اور پورے علاقے میں اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کر رہا ہے۔گزشتہ سال شہید مرحوم کی دوکان سے ملحقہ ایک معاند احمدی کی دکان میں آگ لگ گئی۔ان باتوں سے بھی سبق نہیں سیکھتے۔یہ دیکھیں کہ اُس کے آگ لگی ، اُس کا تمام سامان جل کر راکھ ہو گیا۔شہید مرحوم کی دکان براہ راست آگ کی لپیٹ میں تھی مگر اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں ہر لحاظ سے اُس کو محفوظ رکھا حتی کہ باہر پڑے ہوئے پلاسٹک کے بورڈ بھی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔اس کو دیکھ کر سب حیران تھے لیکن یہ چیزیں ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔شہید مرحوم کو اپنے پورے خاندان سے نہایت شفقت اور محبت کا سلوک تھا۔خاندان میں کسی کو بھی کسی چیز یامالی معاونت کی ضرورت ہوتی تو آپ اُس کی ضرورت پوری کرتے تھے۔نہایت مہمان نواز تھے۔بطور خاص جماعتی مہمان کو خدمت کے بغیر نہیں آنے دیتے تھے۔اگر مرکز سے جماعتی مہمان آتے اور کوئی دوسرے احمدی دوست اُن کو اپنا مہمان بنا لیتے تو مہمان کو اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کرتے۔چالیس پچاس افراد جماعت کے پروگرام کا گھر پر انتظام کرتے تھے۔گھر پر ہی اُن کے کھانے کا انتظام بھی کرتے۔خود مہمان نوازی کرتے۔جماعتی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔اس وقت بھی وہ نائب قائد حلقہ سیٹلائٹ ٹاؤن، سیکرٹری وقف جدید اور سیکرٹری تحریک جدید کے علاوہ حلقہ کے سکیورٹی اور اصلاحی کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پارہے تھے۔شہید اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔2007ء میں نظام وصیت میں شامل ہوئے۔شہادت سے ایک ہفتہ قبل شہید مرحوم کے والد صاحب نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کسی کی شادی ہے اور اپنے ہاتھ سے بارات کو روانہ کر رہا ہوں۔یہ ان کے والد صاحب کہتے ہیں۔اسی طرح آپ کی اہلیہ نے خواب میں دیکھا کہ میں جارہی ہوں اور میرے بچے اور دیورانی میرے ہمراہ ہیں۔راستے میں ایک کالا کتا حملہ کرتا ہے۔میں اپنی دیورانی کے پیچھے چھپ جاتی ہوں اور کہتی ہوں کہ دعا کریں لیکن وہ کالا کتا میری شہ رگ سے پکڑ لیتا ہے۔شہید مرحوم نے پسماندگان میں والد مکرم نواب خان صاحب کے علاوہ اہلیہ محترمہ شبانہ منظور صاحبہ اور دو بیٹیاں عزیزہ نعمانہ منظور واقفہ نو بعمر دس سال اور عزیزہ فائزہ منظور بعمر آٹھ سال اور بیٹا تو حید احمد