خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 714 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 714

خطبات مسر در جلد دہم 714 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء مبلغ کر بیاتی لکھتے ہیں کہ حافظ احمد جبرائیل سعید صاحب نے اپنی بیماری کے آخری ایام میں مکرم انیس کلاٹا صاحب مرحوم جو کریباتی کے پہلے احمدی تھے ، اُن کی اہلیہ کو فون کیا اور اُن کو جماعت کے ساتھ رابطہ رکھنے کی تلقین کی۔یہ ہسپتال سے وہاں فون کر رہے ہیں جب بیمار کو بیماری کی فکر ہوتی ہے اور وہ بھی ایک دور دراز علاقے کے جزیرے میں۔کہتے ہیں کہ یہ بات یا درکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت آپ کو عطا فرمائی ہے اور آپ لوگوں کو اسلام تلاش کرنے کے لئے کوئی سفر نہیں کرنے پڑے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گھروں میں اسلام پہنچا کر آپ پر بہت فضل کیا ہے۔اس لئے کبھی بھی جماعت کو نہیں چھوڑنا۔احمد جبرائیل سعید صاحب کے ذریعے جن احباب نے بیعتیں کیں ان میں ایک میڈیکل ڈاکٹر علی بر بیو صاحب بھی ہیں جنہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ احمدیت قبول کی۔اُن کے دونوں بیٹے بھی اس وقت میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔موصوف کریباتی زبان کے ماہر ہیں اور اس وقت کریباتی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی کر رہے ہیں بلکہ مکمل کر لیا ہے اور اب اُس کی ریویژن ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ احمدیت کے اس ماہی نازفرزند کو اپنی رضا کی جنتوں میں داخل فرمائے خلافت احمد یہ کو ان جیسے سینکڑوں ہزاروں سلطان نصیر عطا فرمائے ان جیسے قابل، عاجز اور وفا شعار خادم سلسلہ کے رخصت ہونے کا غم بہت زیادہ ہے لیکن خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونا ہی ایک مومن کی شان اور شیوہ ہے اور إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہی ہماری دعا اور سہارا ہے۔ان کے رخصت ہونے سے بشری تقاضے کے تحت جو مجھے فکر ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے بھی دور فرمائے۔گھانا میں بھی اب مدرستہ الحفظ قائم ہو چکا ہے بلکہ میرا خیال ہے کچھ حفاظ کی کلاس وہاں سے نکل بھی چکی ہے اور مبلغین یعنی شاہد مبلغین تیار کرنے کے لئے جامعہ احمدیہ بھی شروع ہو چکا ہے جو کم از کم افریقن ، جو ویسٹ افریقن ریجن ہے یا شاید سارے افریقہ کو ہی سنبھالے گا۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اُس میں سے بھی حافظ صاحب جیسے بلکہ اُن سے بڑھ کر خادم سلسلہ پیدا ہوں۔اور یہ تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والے ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے والوں میں سے دو کا ذکر کروں گا تو دوسرے مخلص جن کا ذکر کرنا ہے وہ ہیں جنہیں گزشتہ دنوں کوئٹہ میں شہادت کا رتبہ ملا۔اور یہ بھی اُن لوگوں میں شامل ہوئے جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ