خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 63

خطبات مسر در جلد دہم 63 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء رستم حماد ولی صاحب جو ماسکو کے صدر جماعت ہیں، اپنے تعزیت کے خط میں لکھتے ہیں کہ مکرم را ویل صاحب بہت وسیع العلم شخصیت تھے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کو بیحد علمی صلاحیتوں سے نوازا تھا جس سے انہوں نے کھلے دل سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔جماعت احمد یہ مسلمہ کو قبول کرنے کے بعد انہوں نے کامل طور پر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبودیت ، جماعت اور لوگوں کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا جس کے بعد اُن کی شاندار انسانی خصوصیات مثلاً عاجزی، انسانیت سے پیار، نرمی اور شفقت ، خلوص، عفو و درگزر، ہمیشہ خدا سے ہی اپنے حاجات طلب کرنا، ہمیشہ سب کی مدد کے لئے کوشاں رہنا اور اپنی تمام بہترین صلاحیتوں میں دوسروں کو شریک کرنا ایک نمایاں شان کے ساتھ ابھریں۔ہمارے ایک مبلغ بشارت صاحب ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ وہ لحہ بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے جب آپ کا خطبہ پہلی دفعہ رشین زبان میں نشر ہوا تھا۔دو سال پہلے یہاں سے جانا شروع ہوا تھا، تو میرے ساتھ ساتھ ایک مقامی بزرگ مکرم تکتور بائیوسا گن بیک صاحب (Tokotorbaev Saghinbek) بھی وہ خطبہ دیکھ رہے تھے، جب خطبہ ختم ہوا تو سب کی آنکھیں خوشی اور مسرت سے پر نم تھیں اور سب نے ایک دوسرے کو گلے مل کر مبارک باد دی۔یہ خطبہ بھی مکرم را ویل صاحب کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا اور پھر اُن کی آواز میں خطبات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سیدنا مسیح پاک کے خلیفہ کی آواز کورشین زبان بولنے والے بھائی بہنوں کو سب سے پہلے پہنچانے کا اعزاز بھی اُن کو ہی نصیب ہوا۔اُن کو خلیفہ وقت کے دست و بازو بنے کی توفیق ملی۔پھر لکھتے ہیں کہ بعد میں آئے مگر خلافت کی برکت سے خلافت کے سایہ عاطفت میں ہم سے آگے نکل گئے۔اللہ تعالیٰ اُن سے پیار و محبت کا سلوک فرمائے۔اللہ تعالیٰ ان جیسے بیشمار سلطان نصیر عطا فرمائے۔ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ ان کا جنازہ حاضر ہے۔میں جنازہ پڑھاؤں گا۔جنازہ باہر آئے گا۔میں باہر جا کے جنازہ پڑھاؤں گا۔لوگ یہیں مسجد میں ہی صفیں درست کر لیں گے۔اس کے علاوہ بھی دوتین غائب جنازے ہیں۔ایک تو مکرم صاحبزادہ داؤد احمد صاحب ابن مکرم صاحبزادہ محمد شفیع صاحب سرائے نورنگ ضلع بنوں کا ہے۔صاحبزادہ داؤ د احمد صاحب شہید کا تعلق ننھیال اور ددھیال دونوں کی طرف سے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے ساتھ ہے۔یہ جو صاحبزادہ داؤ د احمد صاحب ہیں ان کو 23 جنوری کو صبح پونے دس بجے نورنگ میں شہید کر دیا گیا۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔شہید مرحوم کی والدہ محترمہ صاحبزادہ عبد السلام صاحب کی بیٹی تھیں جو حضرت صاحبزادہ