خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 62

خطبات مسرور جلد دہم 62 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012 ء لیکن اگر کبھی خلفائے وقت اُن کی کسی تجویز کو کسی وجہ سے مناسب نہ سمجھتے یا وہی کام کسی اور رنگ میں کرنے کا کہتے تو کبھی بھی کسی قسم کا ملال یا کوئی تبصرہ نہ کرتے تھے بلکہ کہا کرتے تھے کہ اگر خلیفہ وقت نے کسی معاملے میں کوئی واضح ہدایت دے دی ہے تو اس بارے میں مزید رائے زنی کرنا میرے نزدیک بے ادبی اور گناہ ہے۔اور جس معاملے کی بابت خلیفہ اسیح نے ہدایت عطا کر دی پھر اُس کے متعلق بالکل خاموش ہو جایا کرتے تھے۔اُن کی یہ چیز مقام خلافت کے ادراک کے حوالے سے واقعی بہت سے پرانے احمدیوں اور نومبائعین کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ہمارے ایک مخلص روسی احمدی بزرگ مکرم اور ال شریپو و صاحب، راویل صاحب کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے خط لکھتے ہیں کہ راویل صاحب بہت عظیم خیالات کے مالک تھے اور انہوں نے بہت زیادہ تخلیقی کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔وہ محنت کرنے ، اپنی قوم اور مذہب اسلام کی حکمت و دانش مندی سے خدمت کرنے کو اپنا ایمان سمجھتے تھے۔اسی لئے انہوں نے مسلمانوں کی اصلاح پسند جماعت، جماعت احمدیہ کو چنا اور اس میں شامل ہوئے۔پھر قازقستان سے ہمارے ایک معلم روفات تو کا موف صاحب نے تعزیت کے خط میں لکھا کہ راویل صاحب سے پہلا تعارف جماعتی کتب کے ذریعہ ہوا جو انہوں نے رشین زبان میں ترجمہ کی تھیں۔را ویل صاحب بہت اچھے اور شریف آدمی تھے۔ہم نے سنا ہے کہ اپنے آپریشن سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ آپریشن کے بعد مجھے جینے کا موقع ملا تو میں اپنی زندگی وقف کر دوں گا۔مکرم را ویل صاحب انتہائی مخلص اور اپنے قول کے پکے تھے۔ایک دفعہ جب وہ ایم ٹی اے کی ٹیم کے ساتھ لندن جارہے تھے تو یہ کہتے ہیں میں نے انہیں حضور کو ( یعنی مجھے ) دعا کے لئے کہنے کی درخواست کی تو وہاں پہنچ کے انہوں نے باقاعدہ خط لکھا کہ میں نے تمہاری دعا کی درخواست پہنچادی ہے۔اکثر اس موضوع پر بات چیت کرتے تھے کہ وسطی ایشیا کے ممالک میں احمدیت کا پیغام تیزی کے ساتھ کس طرح پہنچایا جاسکتا ہے؟ پھر یہی معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح جلد احمدیت کا پیغام اپنی قوم تک اور ان تمام لوگوں تک پہنچا دیں جو رشین زبان بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ راویل صاحب جب آپ کا خطبہ اپنی آواز میں ایم ٹی اے پر پڑھتے تھے (ایم ٹی اے پر ترجمہ جو ہوتا تھا) تو محسوس ہوتا تھا کہ وہ درد کے ساتھ اور خوبصورت طریقے سے اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ لوگ ہمارے امام وقت کی آوازشن سکیں۔