خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 64

خطبات مسرور جلد دہم 64 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء عبداللطیف صاحب شہید کے بیٹے تھے۔یوں آپ حضرت صاحبزادہ صاحب کے پڑنواسے تھے۔اسی طرح ددھیال کی طرف سے مکرم داؤ د صاحب کے دادا مکرم صاحبزادہ عبدالرب صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب کی بہن کے بیٹے تھے جن کی شادی میرا کبر صاحب سے ہوئی اور بعد میں یہ لوگ لاہوری جماعت میں شامل ہو گئے تھے۔صاحبزادہ داؤ د احمد جو شہید ہوئے ہیں ان کا خاندان صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد افغانستان سے شفٹ ہو کر سرائے نورنگ میں آباد ہو گیا تھا اور آپ کی پیدائش ان کے ہاں 1955ء میں ہوئی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کو 23 جنوری کو شہید کر دیا گیا۔صبح کے وقت تقریبا پونے دس بجے کسی کام کی غرض سے بازار کے لئے نکلے تو سرائے نورنگ میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار آئے اور آپ پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا اور فرار ہو گئے۔ان کی شہادت سے قبل مؤرخہ سترہ جنوری 2012ء بروز منگل کو سرائے نورنگ میں ختم نبوت والوں نے بہت بڑا جلسہ منعقد کیا تھا جس میں انہوں نے جماعت کے خلاف کافی زیادہ گالی گلوچ کی اور سامعین کو اشتعال دلایا۔یہ شہادت اسی کا شاخسانہ لگتا ہے۔شہید مرحوم کا ددھیال جیسا کہ میں نے کہا پیغامی احمدی ہو گیا تھا۔خلافت سے ہٹ گئے تھے، غیر مبائع تھے۔مرحوم نے آٹھ سال پہلے بیعت کی اور جماعت مبائعین میں شامل ہوئے اور اپنے گھر میں اکیلے احمدی تھے جبکہ دیگر تمام گھر والے لاہوری جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔نہایت نیک اور تہجد گزار، پرہیز گار، زکوۃ اور چندوں میں با قاعدہ تھے۔نیک اور اچھی شہرت کے حامل تھے۔جماعتی تعاون لین دین اور عام اخلاق بہت ہی اچھا تھا۔کسی سے دشمنی کا اندازہ نہیں تھا۔ان کو 2004ء ، 2005ء میں دل کا عارضہ ہوا، تو بائی پاس آپریشن کروایا۔اُس کے باوجود روزے باقاعدہ رکھتے تھے۔اپنی نوکری سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی جس پر آپ کے بعض ساتھیوں نے آپ سے کہا کہ آپ کی پنشن بنتی ہے۔آپ پنشن کے لئے اپلائی کریں۔لیکن آپ نے انہیں کہا کہ نوکری کے دوران مجھ سے کئی کو تا ہیاں اور خامیاں رہ گئی ہوں گی۔اس لئے میں اُن کو تاہیوں اور خامیوں کے بدلے یہ پینشن گورنمنٹ کو دیتا ہوں تا کہ گورنمنٹ کا میری طرف کوئی قرض نہ رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد آپ اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور سرائے نورنگ کی ایک مارکیٹ میں موجود اپنی دکانوں کے کرایہ پرگزر بسر ہوتا تھا۔شہید مرحوم کے لواحقین میں دو بھائیوں کے علاوہ ان کی اہلیہ امتہ الحفیظ صاحبہ ہیں۔آپ کی اولاد کوئی نہیں تھی۔احمدیوں کو وقتا فوقتا جیسا کہ ہم سنتے رہتے ہیں پاکستان میں شہید کیا جارہا ہے لیکن کیا یہ جو شہادتیں ہیں ہمارے حوصلے پست کر رہی ہیں؟ کئی مرتبہ میں نے بیان کیا ہے کہ لا ہور کی مسجد میں جو واقعہ ہوا تھا۔