خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 676
خطبات مسر در جلد دہم 676 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء اوہ سچا مہدی ، اوہ سچا مسیح ، اوہ بڑیاں اڈیکاں والا سیح، اوہ آ گیا اے ہمن لوتے ویلا جے یعنی اے مخلوق خدا! وہ سچا مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کی مدتوں سے انتظار تھی ، وہ آ گیا ہے۔اب وقت ہے اُس پر ایمان لے آؤ۔ہمارے کھاریاں کے احمدی کچھ دن پہلے جہلم چلے گئے ہوئے تھے کیونکہ وہاں لنگر اور پہرے کا انتظام کرنا تھا۔حضرت صاحب جب ڈپٹی کی کچہری میں داخل ہوئے تو ایک دومنٹ بعد ہی کمرے سے باہر آگئے اور دھوم مچ گئی کہ آپ بڑی ہو گئے ہیں اور بنگھی میں بیٹھ کرسٹیشن کی طرف چلے گئے۔میں حیران تھا کہ حضور تک کس طرح رسائی ہو اور بیعت کس طرح کروں۔چنانچہ معلوم نہیں حضور شہر کی جانب سے ہو کر سٹیشن گئے یا دوسرے راستے کی سڑک سے، لیکن میں دوڑ کر سیدھا سٹیشن پہنچا۔حضور گاڑی میں بیٹھ گئے اور پولیس نے سب آدمیوں کو سٹیشن کے باہر کر دیا۔جنگلے کے پار جدھر دیکھو، جہاں تک نظر جاتی تھی، آدم ہی آدم نظر آتا تھا۔جب پولیس نے ہمیں پلیٹ فارم سے باہر نکالنا چاہا تو میری نظر ایک کانٹے والے یعنی ریلوے پوائنٹس مین پر جا پڑی۔ریلوے کا ملازم تھا، اُس کا نام عبداللہ تھا اور وہ موضع بوڑے جنگل میں رہنے والا تھا اور کبڈی اور کشتی لڑنے میں مشہور تھا۔میرا واقف تھا۔اُس کو میں نے کہا کہ کوئی صورت کرو کہ اب پولیس مجھے باہر نہ نکالے۔میں نے قریب ہو کر مرز اصاحب کی زیارت کرنی ہے۔چنانچہ عبداللہ کانٹے والے نے میرے ہاتھ میں ایک ریلوے جھنڈی دے دی۔ایک اُس کے ہاتھ میں تھی اور ایک دوسری میرے ہاتھ میں اور ہم دونوں اس طرح ٹہلنے لگے جیسے کہ میں بھی ریلوے ملازم ہوں۔اب صرف چند آدمی تھے اور باقی مخلوق جنگلے کے باہر۔میں نے جھنڈی وہیں پھینکی اور جس ڈبے میں حضرت صاحب تھے اُس کی طرف بڑھا۔حضرت صاحب نے جیب سے گھڑی نکالی اور فرمایا، ابھی تو دس منٹ باقی ہیں۔آواز دوجس نے بیعت کرنی ہے کر لو۔بیعت کا لفظ حضور کے منہ میں تھا کہ کھڑکی کے سامنے پائیدان پر موجود اور آگے بڑھا۔ایک مولوی صاحب نے باہر نکل کر بیعت کے لئے لوگوں کو آواز دی اور ابھی آواز کے لئے باہر نکلے تھے کہ میں نے ذرا اور آگے سر جھکایا تو حضرت صاحب نے میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا۔بیعت کرنی ہے؟ میں نے عرض کی۔جی ہاں۔جی صاحب میرے۔چنانچہ حضور نے میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے لیا اور کلمہ شہادت پڑھایا اور کئی باتیں جیسے شرک نہیں کروں گا اور سچ بولوں گا وغیرہ جواب مجھ یاد نہیں۔۔۔مگر جب حضور نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اُدھر سے ایک مولوی صاحب کی آواز بیعت کے لئے نکلی تو جو لوگ سٹیشن کے برآمدے میں تھے یا جنگلے کے باہر ، وہ سب ٹوٹ پڑے اور جنگلہ پھلانگ کے ایک آن میں پلیٹ فارم پر کر دیا۔حضور نے فرمایا کہ اس کے بازو پر ہاتھ رکھ لو۔