خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 677 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 677

خطبات مسرور جلد دہم 677 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء یعنی ان کا ہاتھ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ باقی جو بیعت کرنے والے ہیں اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھ لیں۔مگر یہ تو پہلے چار پانچ آدمیوں نے ہی میری کہنی اور بازو پر ہاتھ رکھے تھے اور اب تو ہجوم تھا۔حضور نے فرمایا کہ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ لو اور جو اس کے پیچھے ہیں وہ اس طرح ایک دوسرے کے کندھوں اور بازوؤں پر۔پس میرا ہاتھ حضرت صاحب کے ہاتھ میں تھا اور باقی نامعلوم کہاں تک پیچھے کو کندھوں پر ہاتھ رکھنے کا سلسلہ تھا۔حضرت صاحب نے میرا ہاتھ خوب مضبوط پکڑا ہوا تھا اور آنکھیں قریباً بند تھیں۔حضور کی پگڑی برف کی طرح سفید تھی اور پگڑی کے نیچے کلاہ نہیں تھا بلکہ رومی ٹوپی کی طرح کچھ تھا اور پھند نابھی سیاہ رنگ کا پگڑی سے اوپر کونکل کر لٹک رہا تھا جو بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتا تھا۔جب بیعت لے چکے تو حضور نے گھڑی نکال کر دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ایک منٹ باقی ہے۔دوستوں کو گاڑی سے علیحدہ کرنا چاہئے۔کوئی حادثہ نہ ہو۔یہ حضرت اقدس کے اصل الفاظ نہیں مگر مفہوم یہی تھا۔چنانچہ لوگ تھوڑے سے گاڑی سے ہٹ گئے لیکن میں نے دروازے کا ڈنڈا پکڑے رکھا اور گاڑی نہایت آہستہ سے حرکت میں آئی اور میں نے حسرت بھری نگاہوں سے حضور کو دیکھا تو حضور نے ذرا آگے جھک کر میری پشت پر تھپکی دی اور فرمایا: اچھا خدا نگہبان۔چنانچہ حضور کے اتنا فرمانے پر میں پائیدان سے نیچے اتر آیا۔اور بس کیا سناؤں۔عجب ہی رنگ اور عجب ہی سماں تھا۔اس قدر مخلوق قیامت کو ہی نظر آئے تو آئے ورنہ کیا درخت اور کیا زمین، مخلوق سے لدے ہوئے تھے۔فقط بیعت کے وقت والد صاحب کی عمر 52 سال تھی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 2 صفحہ 80-83 روایت حضرت چوہدری کریم دین صاحب) حضرت مولا دا د صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1880 ء سے پہلے کا واقعہ ہے جب میری عمر دس گیارہ سال کی ہوگی۔میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا گر وہ آدمیوں کا کمر بستہ ہے اور ایک شخص اُن کے آگے آگے ہے وہ بھی کمر بستہ جارہا ہے۔سر سے اور گلے سے سب بر ہنہ معلوم ہوتے ہیں۔کمروں میں پٹکے بندھے ہوئے ہیں۔سب سے اگلا جو ہے وہ پیشر و معلوم ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے۔” ہفت زمین ہفت آسمان از خویش پیدا می کنم اور پیچھے والے سب یک زبان ہوتے ہیں ” از خویش پیدا می کنم ، از خویش پیدا می کنم اسی طرح کہتے جاتے ہیں اور جھومتے جاتے ہیں۔ایک پختہ چار دیواری میں جا داخل ہوتے ہیں۔یعنی سات زمین اور سات آسمان میں ہی پیدا کرنے والا ہوں، میں نے خود ہی پیدا کیا ہے یا پیدا کروں گا۔بہر حال یہ بھی نئی زمین اور نیا آسمان پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہے۔بہر حال ان کو خواب میں