خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 675
خطبات مسر در جلد دہم 675 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء ہوئیں حاضر ہوئیں ) حضرت صاحب نے اُن کی حالت تکلیف سفر اور سردی وغیرہ دیکھ کر نہایت شفقت اور مہربانی سے عذرات مناسب فرمائے اور بھیگے کپڑے اتروا کر نئے کپڑے پہنوا دیئے ، یعنی اُن کے کپڑوں کا انتظام کر دیا اور سردی دور کرنے کے لئے آگ سلگوا دی۔جب آسودہ حال ہوئیں تو عرض کی حضور خاکساروں کی بیعت قبول فرمائی جائے۔حضور نے مہربانی اور عنایت سے عرض منظور فرما کر بیعت کے زمرہ میں داخل فرما لیا۔مولوی صاحب مذکور کی بیوی نے پیغام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ”السلام علیکم، پیش کیا۔(مولوی صاحب کی جو بیوی تھی اُن میں سے کچھ پڑھی لکھی تھیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں بیعت کرنے کے بعد حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوارشاد آتا ہے کہ میرے مسیح کو پیغام پہنچاؤ، وہ پیش کیا ) تو حضور بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ یہ پیغام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم آج تک کسی نے نہیں ادا کیا۔لوگ آتے ہیں، بیعت کرتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔پھر بائعان مذکورہ نے عرض کی کہ حضور کا پس خوردہ بوجہ تبرک ہمیں ملنا چاہئے جو تبرک ملا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 6 صفحہ 232-233 روایت حضرت چوہدری نظام الدین صاحب) چوہدری حاجی ایاز خان صاحب جو ہنگری وغیرہ کے مبلغ بھی رہے ہیں۔وہ اپنے والد صاحب حضرت چوہدری کرم دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بیان کرتے ہیں۔انہوں نے اُن کو جو بتایا، بیٹے نے اُس کی آگے روایت کی ہے۔حضرت چوہدری کرم دین صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ جب حضرت صاحب کے جہلم آنے کے متعلق افواہ تھی اُس وقت تمہاری والدہ حسین بی بی کو خواب میں اللہ تعالیٰ سے معلوم ہوا کہ ی شخص جو جہلم آنے والا ہے اور لوگ اُس کی مخالفت کرتے ہیں، وہ سچا ہے۔چنانچہ صبح کو تمہاری والدہ نے مجھے کہا کہ یہ بڑی خوش قسمتی ہو گی اگر تم اس پاک مرد یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کرو اور بیعت کرو۔چنانچہ جس دن حضرت صاحب جہلم پہنچے، اُس دن کھاریاں اور دوسرے سٹیشنوں پر اس قدر ہجوم ایک دن پہلے سے جمع ہو رہا تھا کہ حضور کو دیکھنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔اس لئے مقدمے کی تاریخ کے دن ، ( یہ حاجی ایاز خان صاحب کے والد ان کو کہہ رہے تھے کہ مقدمے کی تاریخ کے دن) تمہاری والدہ نے سحری کے وقت مجھے تازہ روٹی پکا کر دی اور میں کھا کر پیدل جہلم چلا گیا اور کچہری کے احاطے میں مشکل سے پہنچا کیونکہ لوگ کئی کئی حیلے کر کے حضرت صاحب کی شکل مبارک دیکھنے کے لئے ترس رہے تھے۔ڈپٹی صاحب کی کوٹھی کے پرے بہت خوبصورت داڑھیوں والے مولوی لوگ وعظ کرتے تھے اور کہہ رہے تھے ، ( یعنی کچھ احمدی لوگ تھے پنجابی میں کہہ رہے تھے کہ ) او خلقتے خدا دی اے،