خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 674 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 674

خطبات مسرور جلد دہم 674 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء اور اُس کی عادت اس طرح ڈالی۔یہ معمولی سی رقم ہو گی ، اصل رقم تو اُن کے ماموں نے ہی خرچ کی ہوگی ) کہتے ہیں بہر حال 1907ء میں قادیان میں محمد عبد اللہ صاحب کی ہمشیرہ صاحبہ بنام فاطمہ جو میری بھی دودھ کی ہمشیرہ تھیں، اُس کو چھوڑنے کے لئے قادیان آیا۔یہاں آ کر حقیقی مسلمان ہوا اور جماعت میں داخل ہوا۔اللہ کریم کا شکر ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 6 صفحه 167-168 روایت حضرت عبدالرحیم بوٹ میکر صاحب) عبدالستار صاحب ولد عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب سے سوال کیا کہ مسیح ناصری کی وفات کا مسئلہ ہمیں نہیں آتا، زندہ کا آتا ہے۔( یعنی عیسی علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ تو ہمیں پتہ نہیں۔یہ احمدی نہیں ہوئے تھے، والد احمدی ہو گئے تھے۔مسیح زندہ ہے یہ مسئلہ تو ہمیں پتہ ہے، اُس کی وفات ہمیں سمجھ نہیں آتی کس طرح ہو گئی ) یہ ہمیں سمجھا دیں تو میرے والد صاحب نے اپنا ایک خواب بیعت سے آٹھ دس ماہ کے بعد یہ سنایا کہ میں نے دریائے راوی کے کنارے پر دیکھا کہ دو خیمے لگے ہوئے ہیں۔ایک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے اور دوسرا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔میں رسول کریم کے خیمے میں داخل ہوا اور یہ سوال کیا کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے والے بزرگ کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص بہت لائق ہے۔بہت لائق ہے۔بہت لائق ہے۔تین دفعہ انگلی کے اشارہ سے فرمایا۔مکمل شہادت کو دیکھ کر یقین کامل ہو گیا کہ آپ یعنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوی میں راستباز ہیں، بچے ہیں۔ہمیں حیات و ممات کے مسئلے کی ضرورت نہیں ہے۔( باپ نے تو کہا کہ مجھے ایک خواب آ گئی۔بڑی واضح خواب تھی اس لئے مجھے اس کا نہیں پتہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہیں یا زندہ ہیں، اس کی ضرورت نہیں۔میرے لئے یہی نظارہ کافی ہے اور میں نے اس لئے بیعت کر لی۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 6 صفحہ 178 روایت حضرت عبدالستار صاحب) ย حضرت چوہدری نظام الدین صاحب ولد میاں نبی بخش صاحب فرماتے ہیں کہ تیسرا واقعہ طاعون کی پیشگوئی کے موقع پر موضع شکار ما چھیاں سے مولوی رلد و صاحب کی بیوی اور پانچ چھ اور عورتیں طاعون سے مرعوب ہو کر کمال سردی اور بارش کے موقع پر بیعت کی غرض کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔( جب طاعون ہور ہا تھا تو شکار ماچھیاں سے پانچ چھ عورتیں باوجود اس کے کہ سردی بہت تھی اور بارش ہو رہی تھی ، طاعون کے خوف سے آئیں۔انہوں نے کہا کہ بیعت کر کے ہی جان بچائی جا سکتی ہے۔تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بارش میں بھیگتی