خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد دہم 673 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء بیعت کی تھی۔مولوی نور محمد صاحب آف مانگٹ نے تبلیغ کی تھی۔شیخ صاحب کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا ہوں۔ایک چاندسی شکل میرے سامنے سے گزری اور مجھے ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ قادیانی احمد ہیں۔مگر خواب میں ہی میں خیال کرتا ہوں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔اور اسی حالت میں میں جاگ اُٹھا اور مولوی نور محمد صاحب سے خواب کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ خواب کے علاوہ جو خیال آیا وہ شیطانی ہے۔اس پر میں نے بیعت کر لی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد 1 صفحہ 220 روایت حضرت شیخ محمد حیات صاحب) حضرت عبدالرحیم بوٹ میکر و جلد ساز ولد میاں قادر بخش صاحب بیان فرماتے ہیں کہ 1906ء میں مجھے قادیان آنے کا شوق پیدا ہوا۔ہمارے خاندان میں صرف میرے ماموں صاحب محمد اسماعیل صاحب جلد ساز ( والد محمد عبد اللہ صاحب جلد ساز ) اور اُن کے لڑکے بھائی محمد عبد اللہ صاحب جلد ساز بھی احمدی تھے۔اُن سے زیادہ مخلص میری مامی صاحبہ تھیں، یعنی والدہ صاحبہ محمد عبد اللہ صاحب۔اُن کے ذریعے ہمارے ماموں صاحب اور بھائی محمد عبد اللہ صاحب قادیان آئے ، احمدی ہوئے۔میں ماموں صاحب کے پاس قرآن پڑھا کرتا تھا۔اُن کی باتیں سنا کرتا تھا۔مثال دیا کرتے تھے کہ دیکھو تم بھی مجھے عبداللہ جیسے ہو۔(یعنی اُسی طرح پیارے ہو۔) لو بات سنو۔بات یہ کہتے کہ لوگ حضرت مرزا صاحب کو برا کہتے ہیں مگر پھر بھی جماعت ترقی کرتی ہے۔مثال کے طور پر یا د رکھنا کہ کھیت میں جس قدر گندگی اور روڑی ڈالی جاوے اُسی قدر زیادہ اچھی فصل سرسبز ہوتی ہے۔یہ لوگ جتنا گند بکتے ہیں، اُسی قدر زیادہ جماعت ترقی کرتی جاتی ہے۔سوخدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے برے لوگوں کی صحبت میں رہ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں داخل ہوئے۔ماموں صاحب اور مامی صاحبہ سے میری خاص محبت تھی۔مجھے فرمایا کرتے تھے کہ تجھے قادیان ضرور لے کر جانا ہے۔مجھے شوق تھا۔ایک دن فرمایا کہ ایک طرف کا کرایہ میں دوں گا، ایک طرف کا تم خرچ کرنا۔(اُس بچے کو شوق دلایا کہ جانا تو ہے لیکن کم از کم خرچ تم نے اپنا کرنا ہے ) کہتے ہیں کہ مجھے ہر جمعہ کے دن آٹھویں روز ایک پیسہ ملا کرتا تھا۔( جیب خرچ کے طور پر ایک پیسہ ملا کرتا تھا۔اُس زمانے میں پیسے کی بھی بڑی ویلیو تھی) کہتے ہیں میں وہ ایک آنہ ماہوار جمع کرتا۔(آنے میں چار پیسے ہوا کرتے تھے۔مجھے یاد نہیں کتنے آنے میرے پاس تھے۔بہر حال جتنے بھی تھے میں نے اپنے ماموں کو دے دیئے اور باقی سب کرایہ ماموں صاحب نے خرچ کیا۔(اب یہ بھی اُس بچے کو احساس دلانے کے لئے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنے جانا ہے تو کچھ نہ کچھ تمہیں قربانی کرنی چاہئے