خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 672 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 672

خطبات مسر در جلد دہم 672 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء اپنے بیٹے کو آپ سب نبیوں کے سامنے ، جس کے متعلق پہلے سے آپ لوگوں کو خبر میں دی جا چکی ہیں، تخت پر بٹھا تا ہوں۔پھر حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر فرمائی۔اس وقت مجھے سید کی حقیقت معلوم ہوئی اور حضرت صاحب کو دیکھا کہ وہی لدھیانہ کے سٹیشن والے ہی مرزا صاحب تھے۔کہتے ہیں جب یہ پتہ لگ گیا کہ سید کا اصل مقام کیا ہے تو اگلے دن صبح اُٹھتے ہی بیعت کا خط لکھ دیا۔پھر آگے لکھتے ہیں ہزاروں ہزار برکتیں نازل ہوں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اور ان کی اولاد پر۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 6 صفحہ 17 تا 20 روایت حضرت محمد شاہ صاحب) حضرت محمد علی صاحب ولد گامے خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے 1903ء یا 1904ء میں جو بڑی پلیگ پڑی تھی اُس کے بعد گرمیوں کے موسم میں بیعت کی تھی۔پہلے والد صاحب نے بیعت کی تھی جو موصی تھے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ انہوں نے جالی گاڑ رکھی ہے۔( یعنی کہ ایک جالی لگائی ہوئی ہے ) شکار کے لئے جو جال لگاتے ہیں۔”جس میں تین فاختائیں پھنس گئی ہیں۔مولوی بوٹے خان صاحب سکنہ شکار نے اُن کی اس خواب کی یہ تعبیر کی کہ آپ کے تینوں لڑکے احمدی ہو جائیں گے۔چنانچہ ہم تینوں بھائی ( بعد میں پھر ) احمدی ہو گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 1 صفحہ 190 روایت حضرت محمد علی صاحب) حضرت مولوی علی شیر صاحب زیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ” بیعت 1906ء میں کی تھی۔موجب یہ ہوا کہ میں مولوی محمد علی صاحب برادر مولوی جلال الدین صاحب مبلغ یوپی سے قرآن کریم پڑھا کرتا تھا۔آپ کو مولوی جلال الدین صاحب کے ذریعے تحریک ہوئی اور انہوں نے بیعت کر لی۔پھر مولوی علی محمد صاحب نے ہمیں تبلیغ کرنا شروع کی۔میں نے استخارہ شروع کیا اور چالیس روز تک يَا خَبِيْرُ اخْبِرْنِي کا ورد جاری رکھا۔مجھے بتایا گیا کہ۔۔۔مدعی سچا ہے۔“ کہتے ہیں، ” مختلف مدعی تھے پتہ نہ چلا کہ کس کے حق میں ہے۔دوسری رات پھر کہا گیا کہ دعویٰ کرنے والا سچا ہے۔پھر کہتے ہیں پھر تیسری رات کہا گیا کہ قادیان میں جس شخص نے دعوی کیا ہے، وہ سچا ہے۔اس پر میں نے بیعت کر لی اور خلافت ثانیہ پر بھی بشارت پر میں نے بیعت کی تھی۔(یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خلافت کے وقت جو ایک فتنہ اُٹھا تھا اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوئی تو انہوں نے بیعت کی)۔(رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 1 صفحہ 219 روایت مولوی علی شیر صاحب) حضرت شیخ محمد حیات صاحب موگا بیان کرتے ہیں کہ 1903ء میں حضرت صاحب کے ہاتھ پر