خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 664 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 664

خطبات مسرور جلد دہم 664 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء پھوپھا اشرف صاحب کار میں تھے۔گھر کے قریب پہنچے ہی تھے کہ سعد فاروق صاحب پر دو نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے پیچھے سے فائر کیا۔گولی اُن کے دائیں طرف کان کے نیچے لگی اور دوسری طرف سے باہر نکل گئی جس سے شدید زخمی ہو کر گر پڑے۔حملہ آوروں نے اس کا رروائی کے بعد کار کا تعاقب کر کے فائرنگ شروع کی جس کے نتیجہ میں شہید مرحوم کے والد جو گاڑی چلارہے تھے اُن کو بھی پانچ گولیاں لگیں جس میں سے دو گولیاں اُن کے دائیں بازو میں، دو گولیاں بائیں بازو میں، جبکہ ایک گولی اُن کی گردن کو چھوتی ہوئی گزرگئی۔شہید مرحوم کے چھوٹے بھائی عزیزم عماد فاروق کو ایک گولی ماتھے پر لگی اور سامنے آنکھ کے پیچھے کھوپڑی کی ہڈی میں پھنس گئی۔شہید مرحوم کے سر چوہدری نصرت محمود صاحب جو کہ گاڑی میں موجود تھے ایک گولی اُن کی گردن اور ایک گولی سینے میں اور ایک گولی پیٹ میں لگی۔ان کی حالت پہلے سے تو بہتر ہے لیکن خطرے سے باہر نہیں ہے۔وینٹی لیٹر (Ventilator) پر رکھا ہوا ہے۔ان کے پھوپھا اشرف صاحب بھی زخمی ہوئے اور باقی دو محفوظ رہے۔جب واقعہ ہوا ہے تو شہید مرحوم کے والد صاحب نے شدید زخمی حالت میں گاڑی چلانی شروع کی اور جب پیچھے دیکھا تو شہید مرحوم سڑک پر گرے ہوئے تھے۔وہ گاڑی روک کر پہلے اُن کے پاس آئے ، اُن کو گاڑی میں ڈالا اور خود زخمی ہونے کے باوجود خود گاڑی چلا کر ہسپتال پہنچے۔ہسپتال پہنچتے ہی سعد فاروق شہید ہو گئے۔انہوں نے جان دے دی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہید مرحوم موصی تھے اور 21 اکتوبر کور بوہ میں اُن کا جنازہ ادا کیا گیا۔شہید مرحوم کا اپنے خاندان سے نہایت محبت کا تعلق تھا۔ان کی والدہ بتاتی ہیں کہ رات کو سونے سے پہلے ہمارے کمرہ میں آتے۔میرے اور اپنے والد کے پاؤں دباتے۔ہمیں چائے پلاتے اور اے سی (AC) کا ٹمپر بچر سیٹ کر کے جانے کی اجازت طلب کرتے۔اور کہتی ہیں ہماری اطاعت کے تمام معیار پورے کرتے۔آج تک انہوں نے ہماری کوئی بات نہیں ٹالی اور نہ ہی کبھی آگے سے جواب دیا۔خون کا عطیہ دینے کا انہیں بہت شوق تھا اور محلے یا جماعت میں کسی کو بھی خون کی ضرورت پڑتی تو سب سے پہلے خود اپنے آپ کو پیش کرتے۔ان کی والدہ کہتی ہیں میرے منع کرنے پر کہتے کہ امی یہ خون تو ضائع ہو جانا ہے، کیوں نہ کسی کے کام آ جائے۔ان کی بہن ڈاکٹر صبا فاروق ہیں، یہ کہتی ہیں کہ ہمارا بہن بھائیوں کا دوستی کا رشتہ تھا۔انتہائی پیار کرنے والا بھائی تھا بلکہ لوگ مجھے کہا کرتے تھے تمہارا بھائی دنیا سے الگ ہے۔اور کہتی ہیں چھوٹا ہونے کے باوجود ہمیشہ مجھے بچوں کی طرح ٹریٹ (Treat) کرتا تھا۔انتہائی نیک اور خدمت گزار تھا اور