خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 665
خطبات مسر در جلد دہم 665 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء صرف ہمارے دل میں نہیں بلکہ جو بھی جس کا بھی اُس سے واسطہ ہے ہر ایک کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ اُس کی قربانی قبول فرمائے۔اُن کی بیوہ بھی کہتی ہیں کہ نکاح کے بعد وہ امریکہ رہتی تھیں ، تو جب فون پر اُن کی بات ہوتی تھی ، وہ اکثر مجھے یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے شہادت نصیب ہو۔جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔خدام الاحمدیہ کی بھی اور مختلف جماعتی خدمات میں بھی انہوں نے بھر پور حصہ لیا۔قائد خدام الاحمدیہ کراچی کہتے ہیں کہ شہید سعد بہت ہی خوبیوں کے مالک تھے۔سب سے بڑھ کر جو میں نے محسوس کیا وہ اُن کی عاجزی تھی۔خاکسار نے ہمیشہ مشاہدہ کیا کہ جب بھی کسی کام کے لئے کہا گیا ، یا کوئی بات دریافت کی گئی ، وہ ہمیشہ سر جھکا کر نظریں نیچی کر کے صرف یہ جواب دیتا تھا جی قائد صاحب۔اُن کی اطاعت بیمثال تھی۔خلافت کے فدائی تھے۔ہر عہد یدار کو اس کے عہدے سے مخاطب کرتے کبھی نام نہ لیتے۔پچھلے ایک سال سے خاکسار نے انہیں ایک ایسے بلاک کا نگران مقررکیا تھا جہاں جماعتی مخالفت زوروں پر تھی مگر اتنا کم عمر ہونے کے باوجود اُن کی بہادری اور لگن بیمثال تھی۔اکثر اپنے سپر د مجالس کا دورہ کرتے اور مکمل کرتے اور رات گئے دیر سے فون پر کام مکمل ہونے کی اطلاع دیتے۔خاکسار حیران ہو کر اُن کو ہمیشہ کہتا تھا کہ آپ کا یہ علاقہ خطرناک ہے اس لئے اپنا خیال رکھا کریں۔شہید کا جذبہ بیمثال تھا۔مشکل حالات میں اُن کی وجہ سے اُن کے سپر دمجالس میں جملہ امور کی انجام دہی میں خاص معاونت حاصل تھی۔ان کے والد صاحب بڑے زخمی تھے تو ان سے ان کی شہادت چھپانے کی کوشش کی گئی۔وہ بھی ہسپتال میں ہی تھے تو انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ سعد شہید ہو چکا ہے۔مجھے اُس کی شہادت کا کوئی غم نہیں ہے۔بس مجھے میرے شہید بیٹے کا چہرہ دکھا دو اور آپ اپنے شہید بیٹے کے پاس گئے کا اور اُس کی پیشانی کو چوما اور اُسے الوداع کہا۔پس جس شہید کے باپ، بہن، ماں ایسے جذبات رکھتے ہوں دشمن بھلا اُن کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔شہید کے سُسر جو ہیں وہ بھی زخمی ہوئے ہیں۔اُن کی کافی Critical حالت ہے۔یہ امریکہ سے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے وہاں گئے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو شفا عطا فرمائے۔دوسرے شہید بشیر احمد بھٹی صاحب ابن مکرم شاہ محمد صاحب مرحوم ہیں۔یہ بھی بلد یہ ٹاؤن کراچی کے ہیں۔ان کی 23 را اکتوبر کو شہادت ہوئی ہے۔انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے پڑنانا مکرم محترم میاں محمد اکبر صاحب کی بیعت کے ذریعے سے ہوا۔آپ کے گاؤں سے ایک وفد قادیان گیا۔اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔واپسی پر اُن کے