خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 661 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 661

خطبات مسرور جلد دہم 661 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ اور آپ کی جماعت سے قربانی کی توقعات کو آج بھی جماعت نے خوب سمجھا ہوا ہے اور یا درکھا ہوا ہے اور خوش ہوکر جماعت کے لئے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جیسا کہ میں نے کہا ان گزشتہ دو سالوں میں جماعت نے بے انتہا جانی قربانی پیش کی ہے۔مجھے کسی نے لکھا کہ گزشتہ دنوں کراچی میں جو ایک جواں سال کی شہادت ہوئی ہے، اُس پر میں نے افسوس کرنے کے لئے فون کیا تو اُس کی کسی قریبی عورت نے ، اُن کی ماں یا بہن تھی مجھے کہا کہ ہمیں تو مبارک دو کہ ہمارے گھر کو بھی شہادت کا رتبہ ملا ہے۔پس چاہے یہ لاہور کی شہادتیں ہوں یا منڈی بہاؤالدین کی ہوں یا گھٹیالیاں کی ہیں یا کراچی کی، یہ قربانی کی روح ہر جگہ ہر احمدی میں نظر آتی ہے اور احمدی سمجھتے ہیں کہ اسی میں ہماری فتح ہے۔پس اے دشمنانِ احمدیت ! تم جس طرح لاہور میں درجنوں شہادتیں کرنے کے بعد بھی کسی احمدی کو اُس کے ایمان سے ہٹا نہیں سکے، احمدیوں کا ایمان متزلزل نہیں کر سکے، اسی طرح کراچی کے احمدیوں کے ایمانوں کو بھی متزلزل نہیں کر سکتے۔کبھی ان کے ایمانوں میں کمی نہیں آ سکتی۔انشاء اللہ۔آج احمدی ہی حقیقت میں اس قربانی کی روح کو سمجھتا ہے اور سمجھتا رہے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔اُس کو اس بات کا ادراک ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینی پڑے گی۔جیسا کہ میں نے کراچی کی اس شہادت کا ذکر کیا۔گزشتہ دنوں کراچی میں تقریباً ایک ہفتہ کے دوران یا چند دن کے عرصے میں تین شہادتیں ہوئی ہیں، کچھ زخمی بھی ہوئے ہیں۔گزشتہ جمعہ کو میں نے اس کا ذکر کیا تھا، ان میں سے ایک آدھ کی حالت بھی تشویشناک ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے ایک واقعہ عورتوں کا سنایا، ان کے عزیزوں کے ایمان کو بھی متزلزل نہیں کر سکے۔بیشک دشمن اپنی بھر پور کوشش کر رہا ہے کہ یہ آگیں جلائیں اور پھر اس کی نگرانی بھی کریں۔إذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُود کی صورتحال پیدا کریں اور پیدا کر رہے ہیں تا کہ یہ دیکھیں کہ کس طرح احمدیوں کو نقصان پہنچانے اور جلانے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے اور اُس کی نگرانی کی جاتی ہے۔اور پھر یہ لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔اس نگرانی کی جو یہ مخالفین احمدیوں کی کر رہے ہیں اور جلانے کی اپنی طرف سے کوشش کر رہے ہیں اُس کی ایک صورت یہ بھی سامنے آئی ہے، کراچی کی ہی بات ہے کہ جب ایک خاندان کے افراد کو شہید کیا گیا یعنی جن کا میں نے ذکر کیا ہے، تو سنا ہے پھر مولوی یا اُن کے چیلے چانٹے ہسپتال والوں پر یہ دباؤ ڈالنے کے لئے جمع ہو گئے تھے کہ ان کا علاج نہ کیا جائے۔تو یہ نگرانی بھی ساتھ ساتھ کی جائے کہ پہلے گولیاں ماری جائیں ، پھر ہسپتالوں میں بھی، ایسی جگہوں پر پیچھا کیا جائے جہاں اُن کا علاج کیا جارہا ہے