خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 660
خطبات مسرور جلد دہم وو 660 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء پھر آپ اپنی کتاب فتح اسلام میں فرماتے ہیں کہ: سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کیلئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آپکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں“۔(اب صرف یہ ضروری نہیں ہے کہ جن لوگوں پر سختیاں آرہی ہیں اُن کا ہی کام ہے یا اُن کی ہی سختیاں ہیں بلکہ جن پر نہیں ہیں اُن کے لئے محنت اور جانفشانی ہے کہ دعاؤں اور عبادتوں میں ایک خاص رنگ پیدا کریں۔اپنی نمازوں میں اپنی تہجدوں میں ایک خاص رنگ پیدا کریں۔) پھر آپ فرماتے ہیں ”ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلتیں قبول نہ کرلیں“۔(اُس وقت تک یہ نہیں ہوگا۔فرمایا ) اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تحتی موقوف ہے“۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 10-11) پس گوآخری فتح یقیناً ہماری ہے اور اسلام کی فتح یقیناً اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت سے وابستہ ہے لیکن اس کے لئے ہمیں کوشش کرنی ہے۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ایمان کی حفاظت کے لئے آگ میں جلنے کے لئے تیار رہو۔ایک مخالفت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔پاکستان میں وقتاً فوقتاً یہ مخالفت کی آگ احمدیوں کے خلاف بھڑکائی جاتی رہی ہے اور بھڑکائی جارہی ہے۔لیکن گزشتہ دوسال سے جو حالت ہے اور جتنی اس میں تیزی آ رہی ہے، اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔جتنی جانی قربانی جماعت نے گزشتہ دوسال میں پاکستان میں دی ہے، پہلے کبھی نہیں دی۔پس یہ قربانیاں رائیگاں جانے کے لئے نہیں بلکہ فتوحات دکھانے کے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان فتوحات کی تسلی بھی دلائی ہے۔تاریخ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ فتوحات ان قربانیوں کے نتیجہ میں ہی ملی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ پر غور کرو۔انہوں نے دین کی خاطر کیسے کیسے مصائب اُٹھائے اور کن کن دکھوں میں وہ مبتلا ہوئے ، نہ دن کو آرام کیا اور نہ رات کو۔خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر ایک مصیبت کو قبول کیا اور جان تک قربان کر دی۔“ 66 ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 330 مطبوعہ ربوہ)