خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 659 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 659

خطبات مسر در جلد دہم 659 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء احمدیوں کو تباہ کرنے کی کوشش، ہمارے لائق طلباء کو یونیورسٹیوں میں تنگ کیا جا رہا ہے، ان کو نکالا جا رہا ہے۔یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دی تھیں کہ یہ تو ہوں گی۔مختلف قسم کی مختلف نہج کی آگیں جلائی جائیں گی جن میں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔گو کہ ظاہری آگ بھی احمدیوں کے خلاف بھڑ کائی گئی۔بعض گزشتہ فسادات جو 73ء میں بھی اور اُس کے بعد بھی ہوئے ہیں، ان میں گھروں کو آگیں لگائی گئیں اور کوشش کی گئی کہ احمدیوں کو گھروں میں جلایا جائے ، ان کو زندہ جلا دیا جائے اور باہر پولیس بھی اور دوسرے لوگ بھی تماشا دیکھتے رہے لیکن دوسری قسم کی آگیں بھی اس میں شامل ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے موعود آئے گا اُس کے ساتھ اور اُس کے ماننے والوں کے ساتھ بڑے سخت ظلم ہوں گے اور یہ ظلم مسلمانوں کی طرف سے بھی ہوں گے۔چنانچہ حدیثوں سے بھی ثابت ہے کہ مسلمانوں کی یہ بگڑی ہوئی حالت ہوگی تو اللہ تعالیٰ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جواب ہوگا کہ جب تک میں اُن میں تھا اُن کا نگران تھا۔بعد میں یہ بگڑ گئے تو وہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔وہی حضرت عیسی والا جواب۔(صحیح بخاری کتاب التفسير تفسير سورة المائدة باب وكنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم۔۔۔حدیث نمبر 4625) اور اس بگاڑ کو درست کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق جس مسیح موعود کو بھیجے گا اُس کے خلاف یہ لوگ آگئیں بھڑ کا ئیں گے اور بھڑکا رہے ہیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لئے ہمیں خود بھی تیار فرمایا ہے۔مختلف جگہوں پر بڑے زور سے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مصائب اور آفات اور تکلیفوں کی یہ گھڑیاں آئیں گی اور اُن کو صبر سے برداشت کرنا۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ” وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور تو میں نبی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی۔وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے اُن پر کھولے جائیں گے“۔فرمایا کہ ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ، ایسا ایمان جو اُس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں، اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجے سے محروم نہیں، ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309)