خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 658

خطبات مسرور جلد دہم 658 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء ”شاہد ظاہر کیا گیا ہے۔بہر حال اب میں واپس اس بات کی طرف آتا ہوں کہ یہ جو شاہد اللہ تعالیٰ نے بھیجا اس کے دعویٰ کے بعد مسلمانوں کا کیا رد عمل ہوا۔باوجود اس کے کہ اس ضرورت کو محسوس کر رہے تھے، جیسا کہ میں نے کہا، باوجود اس ضرورت کے محسوس ہونے اور اس کا اظہار کرنے کے جب اللہ تعالیٰ نے اس شاہد کو بھیجا تو اس کے لئے انہوں نے کیا رد عمل دکھایا ؟ انہوں نے اُس کو کس طرح اس کے دعوے کا جواب دیا ؟ اور یہ تو بہر حال ہونا ہی تھا کیونکہ ان آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کا رد عمل ان لوگوں کی طرف سے ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جیسا کہ میں نے کہا، یہی نقشہ کھینچا ہے۔جب اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دلوں میں حقیقی رنگ میں بٹھانے کے لئے ، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم دنیا کو بتانے کے لئے مسیح موعود کو بھیجے گا اور جب وہ آئے گا تو اُس کو بھی اور اُس کی جماعت کو بھی خوفناک مصائب اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہی انتظار کرنے والے جو کہہ رہے تھے کہ اسلام کا نام باقی رہ گیا ہے، دین کا نام باقی رہ گیا ہے یہ انتظار کرنے والے بھی اور مخالفین بھی جو اس بات پر خوش ہورہے تھے کہ اسلام ختم ہوا۔اس شاہد کے آنے کے بعد ان سب لوگوں کی جو کوششیں ہوں گی وہ اکثریت کی مشترکہ کوششیں بن جائیں گی۔وہ مخالفتوں کی خوفناک آگیں جلائیں گے اور ان لوگوں کو آگ میں ڈالنا چاہیں گے۔پس یہ ان کی حالت ہے کہ ایک طرف تو مسلمانوں کی حالت پر رونا ہے اور ابھی تک رویا جا رہا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی مخالفت کی بھی انتہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو مخالفت کی آگیں بھڑکا رہے ہیں، ان پر اس کی لعنت بھی ہے اور آخر کار یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔لیکن مومنین اسی بات پر خوش نہ ہو جائیں۔مومنین کو بہر حال قربانیاں دینی پڑیں گی اور یہ قربانیاں بھی کوئی عارضی نہیں ہوں گی ، وقتی نہیں ہوں گی بلکہ وقتا فوقتایہ مخالفت کی آگ بھڑکائی جاتی رہے گی۔احمدیوں پر ظلم وجور کیا جاتا رہے گا اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی ترقی اسی سختی اور قربانی کے نتیجہ میں ہوگی، انہی ظلموں کے نتیجہ میں ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار ہا اپنی مختلف تصنیفات میں بھی اور ارشادات میں بھی اس طرف توجہ دلائی ہے۔پس احمدیت کی مخالفت، احمدیوں کا مالی نقصان، احمد یوں کا جانی نقصان، احمدیوں سے بائیکاٹ جو بعض ملکوں میں ہے اور پاکستان میں تو آجکل بہت زیادہ ، حد سے زیادہ بڑھتا جارہا ہے۔احمدی بچوں پر سکولوں اور بازاروں میں آوازے کسنا اور اُن سے اساتذہ کی طرف سے بھی ، ماسٹروں کی طرف سے بھی ، ٹیچرز کی طرف سے بھی اور لڑکوں کی طرف سے بھی اذیت ناک سلوک علمی لحاظ سے بھی