خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 634

خطبات مسرور جلد دہم 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء سات شعری مجموعے ان کے چھپ چکے ہیں۔خلیفتہ المسیح الرابع جب یہاں آئے ہیں تو ایک دفعہ یہاں ہجرت کے بعد انہوں نے اپنی نظم بھیجی اور اُس کا ایک شعر تھا کہ گھر پہ تالا پڑا ہے مدت سے اُس سے کہہ دو کہ اپنے گھر آئے تو حضور رحمہ اللہ نے اس شعر کو بڑا سراہا۔اس کا ذکر فرمایا کہ ڈاکٹر فہمیدہ کا یہ بڑی بوڑھیوں کے سے انداز سے ڈانٹنا مجھے بڑا پسند آیا ہے۔ہمیشہ اپنے بچوں کو نصیحت کی ، بہن بھائیوں کو نصیحت کی کہ اگر دنیا میں عزت چاہتے ہو تو خلافت سے ایسے وابستہ ہو جاؤ کہ اپنی ہستی کو اس راہ میں مٹادو۔ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ جو اس وقت فضل عمر ہسپتال میں انچارج ڈاکٹر ہیں، وہ کہتی ہیں کہ یہ بہت متحمل مزاج اور خوش اخلاق ڈاکٹر تھیں۔اُس وقت نا مساعد حالات تھے۔سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں لیکن انتہائی لگن اور محنت سے انہوں نے کام کیا۔اپنے کام میں اعلیٰ درجہ کی مہارت تھی۔مریضوں کے ساتھ بہت مروّت اور محبت کا سلوک تھا اور ان کے مریض ان کو آج بھی یادر کھتے ہیں۔اس وقت ڈاکٹر نصرت جہاں وہاں ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے وقف کی رو سے کام کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی بھی عمر و صحت میں برکت ڈالے اور فضل عمر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جو کمی ہے اُس کو پورا کرے اور یہ جو چند ڈاکٹر وہاں ہیں، ان کے ہاتھ میں شفا بھی عطا فرمائے اور ان کو ہمت اور حوصلہ بھی عطا فرمائے۔یہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ بھی دعاؤں کی محتاج ہیں۔ایک دفعہ وہاں شعروں کا مقابلہ ہوا۔نظمیں لکھنے کا مقابلہ تھا اور ایک مصرعہ دیا گیا۔اُس میں نام پستہ وغیرہ بھی لکھنا تھا۔ان کی یہ عادت تھی کہ کافی عاجز تھیں تو انہوں نے اس کے آخر میں نام پتہ کی جگہ پر لکھا کہ ” خدمتِ خلق ، لکھنا لکھانا، خانہ داری، دعائے خاتمہ بالخیر۔یہ صرف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے کہا یہ بے نفس خاتون تھیں اور انہوں نے بڑی بے نفس خدمت کی ہے۔اپنی زندگی کا خلاصہ انہوں نے بیان کیا اور یقیناً یہ خدمت خلق کرنے والی تھیں اور گھر یلو ذمہ داریوں کو نبھانے والی تھیں۔آخرت پر نظر رکھنے والی تھیں۔بڑی نافع الناس وجود تھیں اور ان کا خاتمہ بھی میں سمجھتا ہوں خاتمہ بالخیر ہی ہوا ہے۔کیونکہ حدیث کے مطابق جب لوگ کسی کی تعریف کریں تو جنت اُس پر واجب ہو جاتی ہے اور یہ اُنہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں اپنانے اور جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کے خاوند کو بھی صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔