خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 633

خطبات مسرور جلد دہم 633 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012 ء اسسٹنٹ کا سرٹیفکیٹ دیا۔اور یوں 1964ء میں وہ ربوہ آگئیں اور 1984 ء تک فضل عمر ہسپتال میں بطور لیڈی ڈاکٹر کے خدمت کی توفیق پائی۔ربوہ میں اُس زمانے میں لیڈی ڈاکٹر کوئی نہیں تھی بلکہ اردگرد کے علاقوں میں کوئی نہیں تھی اور بڑا وسیع کینٹ ایریا تھا جس کو انہوں نے اکیلے ہی اپنے زمانے میں بھگتا یا۔سردی ہو یا گرمی رات کو بھی دو یا تین بجے کسی بھی وقت کوئی مریض آتا تو فورا بستر چھوڑ کر مریض دیکھنے چلی جاتیں۔یہ بھی ان کے بارے میں بیان ہوتا ہے کہ ولیمہ والے دن دلہن بن کے سٹیج پر بیٹھی تھیں کہ ہسپتال سے کال آگئی کہ ایمر جینسی (Emergency) آئی ہے۔اپنے اُسی لباس میں وہاں سے اُٹھیں اور ہسپتال چلی گئیں اور مہمانوں نے ان کے بغیر ہی بعد میں کھانا کھا لیا۔بہر حال یہ قربانی کی روح تھی۔اور انہوں نے وقف کی روح کے ساتھ اپنے اس خدمت کے عہد کو نبھایا۔اللہ تعالیٰ باقی واقفین کو بھی اس نمونے کو قائم رکھنے کی توفیق دے۔غریبوں کی بڑی مدد کیا کرتی تھیں۔ان کا مفت علاج کر دیا کرتی تھیں۔وہاں علاقے میں رواج ہے، لوگ جھوٹ بول کے اپنی مشکل بیان کر دیتے ہیں تو کبھی یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹی سچی ہو تحقیق کروں گی۔جو کسی نے کہا اعتبار کر لیا اور مفت علاج بھی کیا اور ساتھ دوائیاں بھی دے دیں۔ان کے میاں کہتے ہیں کہ کئی دفعہ اس طرح ہوا کہ وہ رات ہسپتال میں گزارتی تھیں۔صبح میاں کام پر جارہے ہوتے تھے اور وہ ہسپتال سے واپس آرہی ہوتی تھیں۔حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ایک دفعہ مجلس شوری میں ان کے پردہ کی بھی مثال دی تھی کہ کسی نے پردہ میں رہ کر کام کرنا سیکھنا ہے تو ڈاکٹر فہمیدہ سے سیکھیں۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے بھی ان کے متعلق فرمایا کہ بڑی قربانی کرنے والی عورت ہیں اور بہت کم لوگوں کو ایسی سعادت نصیب ہوتی ہے۔جب انہوں نے 1964ء میں ہسپتال جائن (join) کیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو ملنے گئیں تو حضرت چھوٹی آپا اتم متین صاحبہ وہاں تھیں۔انہوں نے کہا کہ فضل عمر ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر آ گئی ہے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فورا الحمدللہ کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں۔ایک دفعہ انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں ملاقات کے دوران کہا کہ میں اعتکاف بیٹھنا چاہتی ہوں تو انہوں نے فرمایا: میرے مریض دیکھو۔میں تمہارے لئے بہت دعا ئیں کروں گا۔آپ کا اعتکاف یہی ہے۔خلافت سے ان کو بڑا تعلق تھا اور بڑی با حوصلہ خاتون تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کو ان کی شاعری بھی بہت پسند تھی اور صرف ڈاکٹر نہیں تھیں بلکہ شاعرہ بھی تھیں اور بڑی اچھی شاعرہ تھیں۔بے ساختگی بھی تھی اور پختگی بھی تھی ، دلی جذبات بھی تھے۔