خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 635
خطبات مسرور جلد دہم 635 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء تیسرا جنازہ جو ابھی جمعہ کے بعد پڑھایا جائے گا وہ مکرمہ ناصرہ بنت ظریف صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب شہید آف حیدر آباد کا ہے جو آ جکل ناروے میں تھیں۔23 ستمبر 2012ء کو ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کی والدہ فاطمہ جمیلہ صاحبہ حضرت سیده ساره بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ان کے ابا مکرم محمد ظریف صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے تیرہ برس کی عمر میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور اس کی وجہ سے انہیں چھوٹی سی عمر میں بھی بہت سی مشکلیں اور صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔مرحومہ کی شادی 1949ء میں محترم ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب سے ہوئی جو حضرت پروفیسر عبدالقادر صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے تھے اور حضرت سید ہ سارہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بڑے بھائی تھے۔بہت مہمان نواز خاتون تھیں۔اپنے شوہر ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب کے ہاں آنے والے بیشمار مہمانوں اور عزیزوں کی دل و جان سے خدمت کرتی تھیں۔نمازوں کی پابند، تہجد گزار ، خوش مزاج، صاف دل، غریبوں کی ہمدرد اور علم دوست خاتون تھیں۔یہ خاندان بھی ماشاء اللہ علم دوست ہے۔اس کوشش میں رہتی تھیں کہ حاجتمندوں کی ضرورت پوری کی جائے۔اُن کی مدد کی جائے اور اُن کو اظہار بھی نہ کرنا پڑے۔ہر کام سیکھنے کا شوق تھا۔آپ نے ادب کا امتحان پاس کیا ہوا تھا۔بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلوانے کی کوشش کی۔1985ء میں اپنے شوہر کی شہادت سے پیدا ہونے والے حالات کے باعث 1987ء میں انہیں ناروے ہجرت کرنا پڑی۔اگر چہ اُن کی عمر ساٹھ برس کی تھی اور ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ بھی تھیں لیکن اس کے باوجود نارویجین زبان سیکھنے کی کوشش کی۔جماعت اور خلافت سے بہت محبت رکھتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اور جماعت کا لٹریچر ہر وقت زیر مطالعہ رہتا تھا۔چندوں کی بروقت ادائیگی کا خیال رکھتی تھیں۔ان کے دو بیٹے ڈاکٹر ہیں۔ایک بیٹی ہیں۔اللہ تعالیٰ بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 2 تا 8 نومبر 2012 جلد 19 شماره 44 صفحہ 5 تا 10 )