خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 632

خطبات مسر در جلد دہم 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء اس طرح میری کافی رہنمائی کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔اپنے پیاروں میں ان کو جگہ دے۔ان کی اہلیہ اور بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے۔ایک بیٹی ان کی سیرالیون میں ایک مربی سلسلہ ہیں اُن کی اہلیہ ہیں ، وہ جنازے میں شامل نہیں ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ اُن سب کو صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ جو اس وقت میں پڑھوں گا مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کا ہے۔75 سال کی عمر میں 8 اکتوبر 2012ء کو کینیڈا میں وفات پائی۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1964ء میں انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ہاؤس جاب کرنے کے بعد ترقی کے کافی مواقع تھے مگر فضل عمر ہسپتال ربوہ میں گائنی کے شعبہ میں ڈاکٹر کی ضرورت تھی ، اس لئے وہاں چلی گئیں اور ء سے فضل عمر ہسپتال جوائن کر لیا۔ان کا خدمت کا عرصہ بڑا لمبا ہے اور ان کی خدمات کے قصے پڑھنے لگو تو شاید پورا ایک خطبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ چاہئے ہو گا۔1964ء میں ایچی سن ہسپتال لاہور میں باؤس جاب کر رہی تھیں کہ اس دوران انگلینڈ میں جاب کے لئے درخواست دی جس پر ان کو ایمپلائمنٹ واچر مل گیا۔ٹکٹ کا انتظام بھی ہو گیا۔انگلینڈ جانے کی تیاریاں مکمل تھیں کہ اگلے دن الفضل گھر پر آیا تو اس میں فضل عمر ہسپتال ربوہ میں لیڈی ڈاکٹر کی آسامی کا اشتہار دیکھا۔ساتھ ہی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا پیغام بھی تھا کہ اگر کوئی احمدی لیڈی ڈاکٹر نہیں آتی تو فضل عمر ہسپتال میں کسی عیسائی ڈاکٹر کا انتظام کر لیں۔انہوں نے لندن جانے کا پروگرام کینسل کیا۔باوجود گھر میں سفید پوشی کے اور دس بہن بھائی تھے۔والد ان کے سیکشن افسر تھے لیکن بہر حال مالی تنگی تھی اور والد نے بھی ادھار لے کر ان کو ایم بی بی ایس کروایا تھا۔ان حالات کے باوجود اُسی دن لاہور سے ربوہ آنے کے لئے تیاری شروع کر دی۔اپنے ہسپتال جہاں ہاؤس جاب کر رہی تھیں ، وہاں جا کر اپنی ایم ایس سے اجازت طلب کی۔ایم ایس نے پوچھا کہ وہ کس لئے جارہی ہیں ؟ تمہیں وہاں تنخواہ کیا ملے گی؟ تو ڈاکٹر فہمیدہ صاحبہ نے بتایا کہ شاید 230 روپے ماہانہ الاؤنس ملے گا تو ایم ایس نے کہا میں تمہیں ساڑے پانچ سوروپے دلواتی ہوں۔لاہور چھوڑ کر نہ جاؤ تمہارا مستقبل بھی اس ہاؤس جاب سے وابستہ ہے۔مگر انہوں نے یہ آفر بھی منظور نہ کی اور کہا کہ میں پیسوں کی خاطر نہیں جارہی۔میرے پاس تو انگلینڈ کا ایمپلائمنٹ واچر بھی موجود ہے، ٹکٹ کا انتظام بھی ہے اور وہاں داخلہ بھی ہو چکا ہے۔مگر میں یہ سب کچھ چھوڑ کر ربوہ جا رہی ہوں۔اس پر ایم ایس نے جواب دیا کہ آپ بہت عظیم عورت ہیں۔اپنی جماعت کی خاطر اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ایم ایس نے ان کو اپنی بہترین ہاؤس جاب