خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 631
خطبات مسرور جلد و هم 631 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء بیٹھ کے ٹی وی پر جمعہ کا خطبہ سنتے تھے۔اور والدہ کی انہوں نے بڑی خدمت کی ہے۔اپنے کامیاب وقف کا کریڈٹ بھی ہمیشہ اپنی والدہ کو دیتے تھے۔ہمیشہ اپنے بچوں کو نمازوں اور دعاؤں کی تلقین کرتے رہتے۔جو نمازیں پڑھنے والے بچے تھے ، اُن سے زیادہ پیار اور محبت کا سلوک اور خوشی کا اظہار کرتے۔ان کی پانچ چھ بچیاں تھیں۔جب ان کی بچیوں کے رشتے آئے تو کوئی پوچھتا کہ کون لوگ ہیں ، تو ان کو ہمیشہ انہوں نے یہی جواب دیا ہے اور اس میں عموماً ان لوگوں کے لئے بھی اس میں بڑا سبق ہے جو ضرورت سے زیادہ دنیا داری کو دیکھتے ہیں کہ لڑکا نمازیں پڑھتا ہے اور چندے دیتا ہے تو تمہیں اور کیا چاہئے اور یہ بھی کہتے کہ اگر میری بچی کے نصیب ہیں تو خالی گھر بھی بھر دے گی اور اگر نصیب میں نہ ہوا تو پھر بہت ساری لڑکیاں ایسی ہیں جو بھرے ہوئے گھر بھی خالی کر دیتی ہیں۔خلافت سے بڑی گہری محبت تھی۔ان کے بیٹے کو کسی وجہ سے تعزیر ہوگئی تو جب تک اُس کی معافی نہیں ہوئی اُس سے بات نہیں کی اور یہ کہتے تھے کہ جس سے خلیفہ وقت ناراض ہے تو میں اُسے کس طرح گوارا کرلوں۔یہاں بھی 2009ء میں آئے ہیں۔ان کے بیٹے کوسز تھی تو مجھ سے کبھی ہلکا سا بھی ذکر نہیں کیا۔اشارہ بھی بات نہیں کی کہ اس کو معاف کر دیں یا کیا صحیح ہے یا غلط ہے۔بس یہی کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اُس کو عقل دے۔ہمیشہ نظام جماعت اور خلافت کے پابند رہے اور بچوں کو اسی کی تلقین کرتے رہے۔خطبے بڑی باقاعدگی سے سننے والے تھے، جیسا کہ میں نے کہا۔اس دوران میں کوئی بچہ شور بھی کرتا تو بڑا برا مناتے۔بیماری کی حالت میں بھی عموماً چھٹی نہیں لیا کرتے تھے۔اگر کوئی چھٹی کا کہتا تو کہتے جب دفتر جاؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔اگر بچے کبھی مطالبہ کرتے کہ چھٹیاں ہیں، سیر پر لے جائیں تو کہتے تھے میری تو ساری زندگی جماعت کیلئے وقف ہے۔اور یہ فقرہ یقیناً اُن کا سطحی فقر نہیں تھا۔انہوں نے ہر لمحہ جماعت کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا تھا اور اس کو انہوں نے کر کے بھی دکھایا۔افریقہ میں جیسا کہ میں نے ذکر کیا میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔اُس وقت کے جو حالات تھے وہ آجکل کے نہیں ہیں۔بڑے تنگ حالات ہوتے تھے۔لیکن بڑی خوشی سے انہوں نے وہاں اپنے دن گزارے ہیں۔بیمار بہت زیادہ ہوتے رہے۔ملیر یا ہو جاتا تھا۔ہسپتالوں میں داخل ہوتے رہے،لیکن جب بھی ٹھیک ہوتے فوراً اپنا کام شروع کر دیتے اور وہاں بھی محبت اور پیار کی وجہ سے لوگ ان کے بہت قائل تھے۔میں بھی جب وہاں گیا ہوں تو یہ پہلے سے وہاں مشنری تھے۔اس کے بعد انہوں نے بہت کچھ وہاں کے حالات کے بارے میں اور بہت ساری چیزوں کے بارے میں مجھے بتایا ، سمجھایا۔