خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 630
خطبات مسر در جلد دہم 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب کا ہے جو 6 اکتوبر 2012ء کو 65 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ مبلغ سلسلہ تھے۔موصی تھے۔ان کی نماز جنازہ احاطہ صدر انجمن احمد یہ میں ادا کی گئی۔کسی دوائی کے غلط استعمال کی وجہ سے اُن کے دل پر اثر ہوا اور اُن کی وفات ہوگئی۔ویسے تو اللہ کے فضل سے صحتمند ہی تھے۔ان کے والد کا نام غلام محمد کشمیری تھا اور یہ گجرات کے رہنے والے تھے اور بچپن سے ہی ان کے والد نماز کے بڑے عادی تھے اور اس وجہ سے اپنے علاقے میں مولوی کہلاتے تھے۔1930ء میں انہوں نے بیعت کی تھی۔جب انہوں نے بیعت کی تو ان کی اہلیہ ان کو چھوڑ کر چلی گئیں۔اُس وقت ان کی ایک غیر احمدی سہیلی نے ان سے پوچھا کہ کیا اُس نے احمدی ہو کے نمازیں پڑھنی چھوڑ دی ہیں؟ تو ان کی بیوی نے یعنی رزاق بٹ صاحب کی والدہ نے اُسے کہا کہ نہیں۔نماز میں تو پہلے سے زیادہ پڑھنے لگ گئے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ پھر وہ کا فرکس طرح ہو گیا۔تو بہر حال پھر وہ واپس آگئیں ، نیک فطرت تھیں۔عبدالرزاق بٹ صاحب نے ابتدائی تعلیم عالم گڑھ گجرات سے حاصل کی۔پھر 1971ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے اور بطور مربی سلسلہ پاکستان کی مختلف جگہوں میں خدمات سرانجام دیں۔پھر 1975ء میں غانا میں ان کی تقرری ہوئی۔وہاں یہ مختلف جگہوں پر رہے۔1979ء سے 1989ء تک بطور پرنسپل احمد یہ مشنری ٹریننگ کالج خدمت کی توفیق پائی اور پھر 89ء میں یہ پاکستان آ گئے تھے۔پاکستان میں مختلف جگہوں پر مربی رہے۔پھر اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے تحت تربیت نو مبائعین میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔اصلاحی کمیٹی کے ممبر رہے اور اصلاحی کمیٹی میں بھی بڑے کامیاب تھے۔ان کا سمجھانے کا انداز، بتانے کا انداز بڑا خوبصورت تھا۔ان کی اہلیہ کے بھائی مبارک طاہر صاحب جو سیکرٹری نصرت جہاں ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جب میری ہمشیرہ عزیزہ امتہ النور طاہر کے لئے بٹ صاحب کا رشتہ آیا تو میرے ابا جان حضرت مولانا محمد منور صاحب نے ، اس وقت جو سیکرٹری حدیقتہ المبشرین شیخ مبارک احمد صاحب ہوتے تھے، اُن سے مشورہ کیا کہ بتائیں ان کا ( بٹ صاحب کا ) فیلڈ میں کیسا کام ہے؟ تو شیخ صاحب نے بتایا کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ان کی رپورٹس خوش کن ہیں اور تسلی بخش ہیں۔کہتے ہیں بس اسی رپورٹ پر ابا جان نے اس رشتہ کا فیصلہ کر لیا۔کام تو فیلڈ میں میں نے دیکھا ہے۔گھانا میں میں اُن کے ساتھ رہا ہوں۔جس بے نفسی سے انہوں نے کام کیا ہے بہت کم مبلغین اس طرح کام کرتے ہیں۔ان کا بیوی بچوں سے بڑا دوستانہ تعلق تھا۔ہر جمعہ کو سب بیٹیوں کو دعوت پر بلا یا کرتے تھے اور پھر سب کے ساتھ