خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 626
626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء خطبات مسرور جلد دہم بھی توجہ نہ دی۔علاوہ ازیں عوام کچھ ایسے غلط پیرائے میں حضرت اقدس کی تعلیم پیش کرتے تھے کہ دل میں ان کو سننے سے بھی نفرت پیدا ہو گئی تھی۔کچھ دنوں بعد شہر میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی اور کثرت سے لوگ مرنے لگے۔ایک دن نیچے بازار میں دیکھا تو کئی جنازے اور ارتھیاں گزر رہی تھیں اور اُن کے لواحقین ماتم کرتے جارہے تھے۔اس عبرتناک نظارے سے مجھے خیال آیا کہ یہ ایک متعدی بیماری ہے۔ممکن ہے کہ مجھ پر بھی حملہ کر دے اور اگر خدانخواستہ موت آ جائے تو مجھ جیسا نالائق انسان خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں کونسے نیک اعمال پیش کرے گا۔پھر اعمال حسنہ تو ایک طرف رہے، چھوٹی سی عمر میں اپنے گاؤں کی مسجد میں پڑا ہوا قرآن کریم بسبب تلاوت نہ جاری رکھنے کے بھول چکا ہے۔( یعنی نیکیاں تو علیحدہ رہیں جو بچپن میں قرآن شریف پڑھا تھا وہ بھی بھول گیا ہے کیونکہ اُس کے بعد کبھی پڑھا نہیں )۔کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ میں اپنی کلاس میں اول ہوں لیکن عقبی میں یہ تو نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے انگریزی اور حساب وغیرہ میں کتنے نمبر حاصل کئے۔اس خیال سے اتنی ندامت محسوس ہوئی کہ دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ قرآن شریف کو از سرِ نو کسی نہ کسی سے ضرور صحیح طور پر پڑھوں گا۔پہلے خود قرآن کریم کو کھول کر پڑھا لیکن یقین نہ آیا کہ آیا میں بالکل صحیح پڑھ رہا ہوں ( یا غلط ہے)۔اس کے بعد سوچا کہ کسی مسجد کے مُلاں سے پڑھوں لیکن ساتھ ہی یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ وہ کہے گا کہ تم اتنے بڑے ہو گئے ہو ، قرآن شریف بھی پڑھنا نہیں جانتے۔آخر کار یہ ترکیب سوجھی کہ اگر کہیں کلام اللہ کا درس دیا جاتا ہے تو وہاں جا کر میں بھی بیٹھ کر قراءت سنتا رہوں اور صحیح قرآت کے علاوہ ترجمہ بھی سیکھ جاؤں۔ادھر ادھر سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سوائے احمد یہ مسجد کے اور کہیں درس نہیں ہوتا۔میں نے دل میں کہا کہ خیر قرآن کریم سن لیا کروں گا اُن کے عقائد اور تعلیم کے بارے میں بالکل توجہ نہیں دوں گا۔جب میں جانے لگا تو آغا صاحب نے روکا اور کہنے لگے کہ اگر تم وہاں گئے تو ضرور مرزائی ہو جاؤ گے۔میں نے اُن کو یقین دلایا کہ میں مرزائی بنے نہیں جارہا، صرف قرآن شریف سننے جار ہا ہوں۔وہ نہ مانے۔لیکن اگلے دن موقع پا کر میں مسجد احمدیہ میں پہنچ گیا۔حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم اُن دنوں درس دیا کرتے تھے۔میں بلا ناغہ ہر روز درس میں حاضر ہو جایا کرتا تھا اور حقائق و معارف سنتا رہتا تھا۔جب کبھی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم قادیان سے آکر درس دیتے تو اُن کے رُعب کی وجہ سے ہمارے غیر احمدی استاد بھی درس میں حاضر ہو جاتے تھے۔گو مجھے خاص طور پر بھی تبلیغ نہیں کی گئی لیکن قرآن کریم کے درس کے دوران میں ہی میرے سب شکوک رفع ہو گئے اور معلوم ہو گیا کہ سلسلہ احمدیہ پر سب الزامات بے بنیاد ہیں۔ان میں ذرا بھی صداقت نہیں۔