خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 625 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 625

خطبات مسرور جلد دہم 625 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء وہ احمد جو آگے تھا وہ پیغمبر تھا ( یعنی جو احمد پہلے تھا وہ پیغمبر تھا) اور متبع پیغمبر نہ تھا۔( یعنی کسی کی اتباع میں نہیں آیا تھا) اور وہ احمد جو اب ہے ( اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے خلیفہ ثانی سے پوچھا کہ وہ احمد جواب ہے اُس سے مراد کون ہے؟ تو انہوں نے اشارہ کے ساتھ ہی سمجھایا کہ اس سے مراد آپ ہیں۔متبع پیغمبر ہے۔(یعنی یہ احمد جو ہے وہ پہلے احمد کی اتباع میں آیا ہے۔) اس کے بعد میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔کچھ عرصہ بعد میں قادیان گیا اور دستی بیعت کی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 10 صفحہ 218-219 روایت حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب) حضرت نظام الدین صاحب بیان فرماتے ہیں کہ حضور کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جناب سرور کائنات کی اکثر دور دراز کے علاقوں سے آیا کرتی تھی۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حدیث کے مطابق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ناں کہ میرے میسیج کو جاکے سلام کہو تو یہ السلام علیکم کا پیغام اکثر دور دراز کے علاقوں کی طرف سے آیا کرتا تھا)۔مگر کہتے ہیں مجھے یہی خیال رہا کرتا تھا، (فارسی میں انہوں نے مصرع پڑھا ہے ) کہ پیراں تمے پرنُدُ مُریداں مے پرا نَند کہ پیر نہیں اُڑتے مگر جو مرید ہیں وہ اُنہیں اُڑا رہے ہوتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ان کی کوئی خوبی نہیں بلکہ یہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں تو اس وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہمیت بن رہی ہے۔کہتے ہیں) آخر جب مسجد اقصیٰ میں بہت زاری سے دعا کی ، تب اللہ تعالیٰ کے صدقے قربان،اس نے ایک خزانہ غیب کا اس عاجز پر کھول دیا کہ جس کے لکھنے سے ایک شیٹ کاغذ کی ضرورت ہے۔تب بیعت کر لی اور امن اور تسکین ہو گئی۔( کہتے ہیں جب زاری سے دعا کی تب اللہ تعالیٰ نے ایسا سینہ کھولا کہ تسکین ہوئی اور پھر میں نے بیعت کر لی۔جو شیطانی خیالات تھے اور وساوس تھے وہ دُور ہو گئے ) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 13 صفحہ 413 تا 416 روایت حضرت نظام الدین صاحب) حضرت سید ولایت شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں 1897ء میں شہر سیالکوٹ کے امریکن مشن ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔پہلے بورڈ نگ ہاؤس میں رہتا تھا۔پھر اپنے انگریزی کے استاد کی سفارش پر آغا محمد باقر صاحب قزلباش رئیس کے ہاں اُن کے دو برادرانِ خورد کا ٹیوٹر مقرر ہوا اور ایک الگ چوبارہ رہائش کے واسطے دیا گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کی نسبت سنا ہوا تھا لیکن چونکہ یہ اپنے پرانے رسمی عقائد کے مطابق نہ تھے اس لئے تحقیق کی طرف