خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 624
خطبات مسرور جلد و هم 624 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2012ء تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ تو کوئی عجیب ہی سلسلہ ہے۔فرشتے لوگ ہیں۔چنانچہ میں ، میرے والد ، میرے تایا بلکہ سارے خاندان نے ہی بیعت کر لی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 10 صفحہ 183 روایت حضرت میاں رحیم بخش صاحب) حضرت چوہدری رحمت خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری بیعت کا واقعہ اس طرح ہے کہ خواب میں میں گھر سے نکلا تو باہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بمع چوہدری مولا بخش بھٹی، چوہدری غلام حسین ، مولوی رحیم بخش مولوی شمس الدین، مولوی الف دین ، مولوی عنایت اللہ، رحمت خان جٹ وغیرہ کے ساتھ باہر کھڑے تھے اور اُس وقت بازار سے آئے تھے۔چوہدری مولا بخش صاحب نے مجھے کہا کہ اب بیعت کر لو۔اس سے اچھا وقت اور کونسا ہو گا۔حضرت صاحب خود یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔میں ساتھ ہو گیا۔یہ ساری پارٹی پہلے چوہدری مولا بخش کے کنوئیں پر گئی پھر ہمارے کنوئیں پر۔وہاں حضرت صاحب نے نماز پڑھائی۔نماز پڑھنے کے بعد میں بیدار ہو گیا۔( خواب میں یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں )۔حضور کی شبیہ مبارک میرے دل میں اس طرح گڑ چکی تھی کہ کبھی بھول ہی نہیں سکتی تھی۔صبح اُٹھ کر میں گھر آیا۔کرایہ لے کر قادیان کا رُخ کیا اور بیعت کی تین دن وہاں ٹھہرا رہا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 10 صفحہ 206 روایت حضرت چودھری رحمت خان صاحب) واقعات دیکھیں تو بعضوں کو بلکہ بہت سوں کو ہم نے دیکھا ہے، اس طرح لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعے پکڑ کے بیعت کروائی ہے۔حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے براہینِ احمدیہ 1892ء، 93ء میں پڑھی۔میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا۔پھر میں حضرت صاحب کی تحریرات اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی تحریرات بالمقابل دیکھتا رہا۔مولوی محمد حسین کے دلائل سے میں یہی سمجھتا رہا کہ یہ کمزور ہیں۔ان کا میری طبیعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔حضرت صاحب کے دلائل مضبوط بھی معلوم ہوتے تھے اور روحانیت بھی ظاہر ہوتی تھی۔دن بدن محبت بڑھتی گئی اور میری طبیعت پر گہرا اثر ہوتا گیا۔تحقیقات جاری رکھیں۔خوابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔1897ء میں میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے سامنے ہیں۔میرا منہ مشرق کی طرف ہے۔حضرت اقدس کا چہرہ مبارک میری طرف ہے۔حضرت خلیفتر اسیح الثانی حضرت صاحب کے دائیں طرف ہیں۔اُس وقت میرے خیال میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی عمر آٹھ نو سال تھی۔حضرت اقدس نے خلیفہ ثانی کی طرف اشارہ کیا۔انہوں نے فرمایا۔