خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 507

خطبات مسرور جلد دہم 507 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء کرتے تھے۔ایک دفعہ مارچ کا مہینہ تھا۔غالباً 1902ء کا ذکر ہے۔ہم چند اہلحدیث جہلم سے لاہور بدیں غرض روانہ ہوئے کہ چل کر انجمن حمایت اسلام لاہور کا جلسہ دیکھیں جو سال کے سال ہوا کرتا تھا۔ہم لاہور پہنچ کر جلسہ گاہ جارہے تھے کہ پنڈال کے باہر دیوار کے ساتھ ایک مولوی صاحب کھڑے ہوئے وعظ فرما رہے تھے۔ایک ہاتھ میں قرآنِ مجید تھا، دوسرے ہاتھ سے چھوٹے چھوٹے اشتہارات بانٹ رہے تھے اور منہ سے یہ کہتے جاتے تھے کہ مرزا انعوذ باللہ کوڑھی ہو گیا ہے اس لئے کہ نبیوں کی ہتک کرتا تھا اور خود کو عیسیٰ کہتا تھا۔اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی قسم اُٹھا کر یہی الفاظ مذکورہ بالا دہرا تا جاتا تھا۔کہتے ہیں ہم یہ سن کر حیران ہو گئے اور اپنے دل میں کبھی و ہم بھی نہ گزرا تھا کہ کوئی شخص اس قدر بھی جرات کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے اور قرآن مجید اُٹھا کر جھوٹ بولتا ہے۔کہتے ہیں ہم تین آدمی تھے۔میں نے اس سے اشتہار لے لیا اور پڑھنے لگا۔اس پر بھی یہی مضمون تھا کہ نعوذ باللہ مرزا کوڑھی ہو گیا، نبیوں کی ہتک کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ چلو قادیان چلیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو سیدھے راستے پر لانا تھا، بیعت کا موقع دینا تھا، تو یہ مولوی کا اعلان ہی تھا جو ان کے لئے قادیان جانے کا ذریعہ بن گیا) تا کہ مرزا صاحب کا حال آنکھوں سے دیکھ کر اپنے شہر کے مرزائیوں کو کہیں گے جو ہر روز ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں اور جو اعتراض ہمارے علماء کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ تمہارے چودھویں صدی کے علماء جھوٹ بولتے ہیں۔( یعنی احمدی یہ کہتے ہیں۔ہمارا بیان تو چشمدید ہو گا اور پھر ہم اس طرح احمدیوں کو خوب جھوٹا کریں گے۔( کہتے ہیں) میرے ساتھیوں نے پہلے تو انکار کیا مگر میرے زور دینے پر پھر راضی ہو گئے۔ہم تینوں لاہور سے سوار ہوئے۔بٹالہ گئے اور وہاں سے عصر اور شام کے درمیان قادیان پہنچ گئے۔مہمان خانہ میں گئے ،مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا تو میں نے کسی سے پوچھا کہ مرزا صاحب جہاں نماز پڑھتے ہیں وہ جگہ ہمیں بتاؤ کہ ہم اُن کے پاس کھڑے ہو کر اُن کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ایک شخص شاید وہی تھا جس سے ہم نے پوچھا تھا میرے ساتھ ہو لیا اور وہ جگہ بتائی جہاں حضور کھڑے ہوکر نماز ادا کیا کرتے تھے۔چونکہ وقت قریب ہی تھا ئیں وہیں بیٹھ گیا جہاں حضور نے میرے ساتھ داہنے ہاتھ آ کر کھڑا ہونا تھا، باقی دونوں دوست میرے داہنے ہاتھ کی طرف بیٹھ گئے۔یہ مسجد حضور کے گھر کے ساتھ ہی تھی جس کو اب مسجد مبارک کہتے ہیں۔یہ اُس وقت اتنی چھوٹی ہوتی تھی کہ بمشکل اس میں چھ یا سات صفیں لمبائی میں کھڑی ہو سکتی تھیں ( یعنی چھ سات صفیں بنتی تھیں) اور ایک صف میں قریباً چھ آدمی سے زیادہ نہیں کھڑے ہو سکتے تھے، یعنی پینتیس چالیس آدمی کی جگہ تھی۔کہتے ہیں چند منٹ کے بعد مغرب کی اذان ہوئی اور پھر