خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 506
خطبات مسرور جلد دہم 506 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2012 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرز مسرور احمد خلف المسح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24 اگست 2012 ء بمطابق 24 رظہور 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیعت کے واقعات پیش کروں گا۔خاص طور پر عرب احمدیوں کی طرف سے اس بات کا اکثر مطالبہ اور اظہار ہوتا ہے کہ ہمیں صحابہ کے واقعات سنائیں کیونکہ اُن کے ہر واقعہ کے ساتھ ہمیں جہاں صحابہ کے اخلاص و وفا اور قربانیوں اور احمدیت قبول کرنے کے بعد مشکل حالات سے گزرنے کا پتہ چلتا ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس کی صحبت بھی میسر آ جاتی ہے۔کسی بھی عنوان کے تحت کوئی بھی واقعہ ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے اعلیٰ پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجالس کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔ہمارے سامنے یہ صحابہ بھی اس زمانے میں نمونہ ہیں، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: 4) کے براہِ راست اور حقیقی مصداق ہیں۔اس زمانے میں ان لوگوں نے ہمارے لئے روحانی منازل کو طے کرنے کے راستے اپنا نمونہ قائم کر کے آسان کئے ہیں، یا پیش کئے ہیں۔پس یہ واقعات اُن خاندانوں کے لئے بھی اہم ہیں جن کے یہ بزرگ تھے اور قابل تقلید نمونہ ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ ہر آنے والے احمدی کے ایمان میں ترقی اور استقامت کا نمونہ ہیں۔اس لئے نو مبائعین بھی خاص طور پر اس کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر جیسا کہ میں نے کہا اس ذریعہ سے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا بھی پتہ چلتا ہے جو ہمارے ایمان کو جلا بخشتا ہے۔پہلی روایت حضرت نظام الدین صاحب کی ہے۔یہ پہلے بھی ایک دفعہ اور رنگ میں بیان ہوئی تھی۔کہتے ہیں کہ ہم اہلحدیث اپنے آپ کو متقی اور ہر ایک حرام اور جھوٹ سے پر ہیز کرنے والا خیال