خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 508

خطبات مسر در جلد دہم 508 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء چند منٹ بعد حضرت اقدس تشریف لے آئے۔ہمارے قریب ہی دروازہ تھا اس میں سے حضور نکل کر میرے ساتھ کھڑے ہو گئے۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آگے کھڑے ہو گئے۔مؤذن نے تکبیر شروع کر دی۔تکبیر کے ختم ہونے تک میں نے حضور کے پاؤں سے لے کر سر تک سب اعضاء کو دیکھا۔حتی کہ سر مبارک کے بالوں اور ریش مبارک کے بالوں پر جب میری نگاہ پڑی تو میرے دل کی کیفیت اور ہوگئی۔میں نے دل میں کہا کہ الہی ! اس شکل اور صورت کا انسان میں نے آج تک کبھی نہیں دیکھا۔بال کیا تھے؟ جیسے سونے کی تاریں تھیں اور آنکھیں خوابیدہ، گویا ایک مکمل حیا کا نمونہ پیش کر رہی تھیں۔ہاتھ اور پیروں کی خوبصورتی علیحدہ دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔اسی عالم میں محو تھا کہ الہی یہ وہی انسان ہے جس کو ہمارے مولوی جھوٹا اور نبیوں کی ہتک کرنے والا بتاتے ہیں۔میں اسی خیال میں غرق تھا کہ امام نے اللہ اکبر کہا اور نماز شروع ہوگئی۔گو میں نماز میں تھا مگر جب تک سلام پھر ا میں اس حیرانی میں رہا کہ الہی ! وہ ہمارا مولوی جس کی داڑھی بڑھی ہوئی اور شرعی طور پر یہیں تراشی ہو ئیں، قرآن مجید کو ہاتھ میں لئے ہوئے قسمیں کھا رہا ہے اور سخت توہین آمیز الفاظ میں حضور کا نام لے لے کر کہہ رہا ہے کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گیا۔اسی خیال نے میرے دل پر شبہ اور شکوک کا ایک اور دریا پیدا کر دیا۔کبھی تو دل کہتا کہ قرآن اٹھا کر اور خدا کی قسم کھا کر بیان کرنے والا کبھی جھوٹ کہہ سکتا ہے؟ ( یعنی ایسا تصور ہی نہیں تھا کہ اُن کے مولوی کیا کچھ کہہ سکتے ہیں۔) شاید یہ شخص جو نماز میں کھڑا ہے مرزا نہ ہو کوئی اور ہو۔نئے آدمیوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایسا کیا جاتا ہو۔اور پھر جس وقت حضور کی صاف اور سادہ نورانی شکل سامنے آئی تو دل کہتا کہ کہیں وہ قسم اٹھانے والا دشمنی کی وجہ سے جھوٹ نہ بول رہا ہو کہ لوگ سن کر قادیان کی طرف نہ جائیں۔خیر نماز ہوگئی۔حضور شاہ نشین پر بیٹھ گئے۔اول تو آواز دی کہ مفتی صاحب ہیں تو آگے آ جاویں۔جب مفتی صاحب آگے آئے تو پھر حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں؟ میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب حضرت خلیفہ اسیح الاول مولوی نورالدین صاحب سب سے آخری صف میں سے اُٹھ کر تشریف لائے۔حضور نے باتیں شروع کر دیں جو طاعون کے بارے میں تھیں۔فرمایا ہم نے پہلے ہی لوگوں کو بتا دیا تھا کہ میں نے فرشتوں کو پنجاب میں سیاہ رنگ کے پودے لگاتے دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا یہ طاعون کے درخت ہیں جو آئندہ موسم میں پنجاب میں ظاہر ہونے والے ہیں۔مگر لوگوں نے اس پر تمسخر کیا اور کہا کہ طاعون ہمیشہ سمندر کے کناروں تک رہی ، اندر ملک میں وہ کبھی نہیں آئی۔مگر اب دیکھو کہ وہ پنجاب کے بعض شہروں میں پھوٹ پڑی ہے۔غرض عشاء تک حضور باتیں کرتے رہے۔عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد حضور اندر