خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 411

خطبات مسرور جلد دہم 411 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء حرکتیں ہوتی ہیں۔گندی اور زنگی حرکات دیکھی جاتی ہیں، کی جاتی ہیں۔پورنوگرافی کی ویڈیو اور فلمیں کھلے عام مہیا ہو جاتی ہیں، انہیں دیکھ کر یہ لوگ ایسی حرکتیں کرنے والے جانوروں سے بھی بدتر ہو گئے ہیں۔اور میں افسوس کے ساتھ کہوں گا، بعض شکایتیں مجھے بھی آ جاتی ہیں کہ ہمارے احمدی نوجوان بلکہ درمیانی عمر کے لوگ بھی اس قسم کی لغو یا اس سے ذرا کم لغو فلمیں دیکھنے کے شوق میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے بعض گھر بھی ٹوٹ رہے ہیں۔پس ہر ایک کو خدا کا خوف کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ ایسے بھٹکے ہوئے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی واضح فرمایا ہے کہ اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو ان لغویات اور ذاتی خواہشات کو چھوڑو ورنہ مجھ سے علیحدہ ہو جاؤ۔ایسے لوگ عموماً جلسوں پر تو نہیں آتے ، جماعت سے بھی بڑے بٹے ہوئے ہوتے ہیں، دور ہوئے ہوتے ہیں لیکن اگر آئیں یا اُن کے کان میں یہ باتیں پڑ جائیں، یا اُن کے عزیز اُن تک پہنچا دیں تو ایسے لوگوں کو اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔یا پھر اس سے پہلے کہ نظام جماعت کوئی قدم اُٹھائے خود ہی جماعت سے علیحدہ ہو جائیں۔اسی طرح نو جوانوں کو بھی جو نو جوانی میں قدم رکھتے ہیں، اچھے اور برے کی صحیح طرح تمیز نہیں ہوتی۔گھر والوں نے بھی نہیں بتایا ہوتا۔جماعت کے نظام سے بھی اتنا زیادہ منسلک نہیں ہوتے ، اُن کو بھی میں کہوں گا کہ بیہودہ چیز میں دیکھنا، فلمیں دیکھنا وغیرہ یہ بھی ایک قسم کا ایک نشہ ہے۔اس لئے اپنی دوستی ایسے لوگوں سے نہ رکھیں جوان بیہودگیوں میں مبتلا ہیں کیونکہ یہ آپ پر بھی اثر ڈالیں گی۔ایک مرتبہ بھی اگر کسی بھی قسم کی غلاظت میں پڑ گئے تو پھر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان آیات کی وضاحت میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے جہنم کے لئے اکثر انسانوں، جنوں کو پیدا کیا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ جہم انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے وہ جہنم نہیں بنا کر دیا بلکہ جہنم انہوں نے خود بنا لیا ہے۔ان کو جنت کی طرف بلایا جاتا ہے“۔فرماتے ہیں : ” اُن کو جنت کی طرف بلایا جاتا ہے۔پاک دل پاکیزگی سے باتیں سنتا ہے اور ناپاک خیال انسان اپنی کورانہ عقل پر عمل کر لیتا ہے۔بلایا جاتا ہے اُن کو جنت کی طرف لیکن وہ سنتے نہیں۔جو پاک دل ہیں اُن پر تو پاکیزہ باتوں کا اثر ہوتا ہے لیکن جو اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اس دنیا کی روشنی سے فائدہ اُٹھانا چاہئے وہ اپنی عقل پر انحصار کرتے ہیں۔اُن کا نتیجہ پھر جہنم ہوتا ہے۔فرمایا ایسے لوگوں کے لئے پس آخرت کا جہنم بھی ہوگا اور دنیا کے جہنم سے بھی ،،