خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد دہم 410 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء بھٹکے ہوئے ہیں، یہی لوگ ہیں جو غافل ہیں۔پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوىهُ (الفرقان: 44) کیا تُو نے اُسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنالیا۔یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی ہی عبادت کرنے والے ہیں۔پھر فرماتا ہے۔آم تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَ هُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا ا لأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا (الفرقان: 45) کیا تو گمان کرتا ہے کہ ان میں سے اکثر سنتے ہیں یا عقل رکھتے ہیں، ان میں سے اکثر جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی زیادہ بدتر۔ان آیات میں ان لوگوں کا نقشہ ہے جو اپنے مقصد پیدائش کو نہیں سمجھتے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس نے پیدا کر کے پھر اُس پیدائش کا مقصد بتایا ہے، اُسے تو بھول گئے ہیں اور اپنے مقاصد خود تلاش کر رہے ہیں۔پھر ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔جانوروں کے تو اعمال کا حساب نہیں ہے، ان بھٹکے ہوؤں کے اعمال کا حساب جو ہے یقیناً انہیں جہنم میں لے جائے گا۔یہاں یہ بات واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ کہا کہ ہم نے بڑی تعداد کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے تو اس سے غلط فہمی نہ ہو کہ خدانخواستہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اختلاف ہے۔ایک طرف تو کہہ رہا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لئے بنایا دوسری طرف فرماتا ہے کہ جہنم کے لئے پیدا کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کے سامانوں کے، باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت وسیع تر ہے اکثریت اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اپنی دنیا و آخرت کے سنوارنے کے سامان نہیں کرتی اور اس کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کر کے جہنم کے راستوں کی طرف چل رہی ہے۔اہل لغت اس کی وضاحت اس طرح بھی کرتے ہیں کہ جہنم کے لفظ سے پہلے لام کا اضافہ ہوا ہے لِجَهَنَّہ “استعمال ہوا ہے۔یہ اضافہ اُن کے انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ مقصد کی طرف۔(تفسير البحر المحيط جلد 4 صفحه 425 تفسير سورة الاعراف زیر آیت 180 دار الکتب العلمية بيروت 2010ء) پس اپنے بد انجام کو انسان خدا تعالیٰ سے دوری اختیار کر کے، اُس کی عبادت کا حق ادا نہ کر کے پہنچتا ہے، اُس کے حکموں پر عمل نہ کر کے پہنچتا ہے۔آجکل جیسا کہ میں نے کہا، اپنی بیہودہ خواہشات نے انسان کا یہ انجام بنادیا ہے کہ انسان جانوروں سے بھی بدتر حرکتیں کرنے لگ گیا ہے اور کھلے عام بیہودہ