خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 412

خطبات مسرور جلد دہم 412 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء 66 مخلصی اور رہائی نہ ہوگی کیونکہ دنیا کا جہم تو اس جہنم کے لئے بطور دلیل اور ثبوت کے ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 372۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ ) ایسے لوگوں کو پھر بعض بیماریوں کی وجہ سے بعض اور چیزوں کی وجہ سے اس دنیا میں بھی ایک جہنم نظر آتی ہے۔پھر دنیاوی جہنم کا نقشہ کھینچتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہر دولت یا حکومت، مال وعزت ، اولاد کی کثرت کسی شخص کے لئے کوئی راحت یا اطمینان، سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت ہی ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔وہ اطمینان اور وہ تسلی اور وہ تسکین جو بہشت کے انعامات میں سے ہے ان باتوں سے نہیں ملتی۔وہ خدا ہی میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے۔فرمایا: " لذات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔استقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی۔جس کو پانی پینے کا مرض ہوتا ہے اُس مریض کی طرح، اُس کی پیاس نہیں بجھتی۔یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس یہ بے جا آرزؤوں اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اس جہنم کی آگ کے ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطاں و پیچاں رکھتی ہے۔اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہ رہے“۔فرمایا: ” اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہ رہے۔یعنی ان باتوں کا خیال رکھیں جو آپ فرماتے ہیں۔پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی ہے اور ایک جلے ہوئے کوئلے سے بھی سیاہ اور تاریک بنادیتی ہے، یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 371۔ایڈیشن 2003ء۔مطبوعہ ربوہ) پس ایک حقیقی مومن کو، تقویٰ پر چلنے والے اور تقویٰ کی تلاش کرنے والے کو اپنے ہر عمل کو خالصہ للہ کرنا ہوگا۔دل میں سے خواہشات اور نام نہاد تسکین کے دنیاوی بتوں کو نکال کر باہر پھینکنا ہو گا تبھی ایک مومن حقیقی مومن بن سکتا ہے۔پس ان دنوں میں اللہ تعالیٰ نے اصلاح کا جو موقع میسر فرمایا ہے اس میں ہر ایک کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ضروری نہیں ہے کہ انتہائی برائیوں میں ہی انسان مبتلا ہو، چھوٹی چھوٹی برائیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ چھوٹی برائیاں ہی بعض دفعہ تقویٰ سے دور لے جاتی ہیں اور برائیوں میں مبتلا کرتی چلی جاتی ہیں۔ذکر الہی سے اپنی زبانوں کو تر رکھیں، استغفار اور درود سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔اپنے دلوں کو غیر اللہ کی محبت سے پاک کریں۔اللہ تعالیٰ کے